2026/03/23

تہران میں دھماکے: اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے

 

Nighttime explosions and fire scenes in Tehran following airstrikes

ایران اسرائیل کشیدگی میں ہولناک اضافہ: تہران میں متعدد زوردار دھماکے، اسرائیلی فوج نے ذمہ داری قبول کر لی

​ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ رات اس وقت شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب پورا شہر یکے بعد دیگرے ہونے والے زوردار دھماکوں کی آوازوں سے لرز اٹھا۔ ان دھماکوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

​اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کا باقاعدہ بیان

​حملوں کے فوری بعد اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فضائیہ اس وقت تہران میں 'دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر' اور مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیل کے مطابق یہ کارروائی ان کے دفاعی اقدامات کا حصہ ہے۔

​ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین کی رپورٹس

​دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی سمیت ملک کے معتبر ذرائع ابلاغ نے تہران کے مختلف اور اہم مقامات پر دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

​عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ:

  • ​دھماکوں کی آوازیں اس قدر شدید اور ہولناک تھیں کہ وہ شہر کے دور دراز علاقوں میں بھی واضح طور پر سنی گئیں۔
  • ​دھماکوں کے فوراً بعد شہر کے کئی حصوں میں سائرن بجنے لگے اور افواہوں کا بازار گرم ہو گیا۔

​جانی و مالی نقصان اور موجودہ صورتحال

​تاحال ان فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی کوئی حتمی یا سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایرانی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم اس وقت پورے علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔