This is default featured slide 1 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 2 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 3 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 4 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 5 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
2026/04/29
بابر اعظم کا طوفان: شاندار سنچری کے ساتھ پشاور زلمی فائنل میں داخل
2026/04/28
پی ایس ایل کوالیفائر: فینز کی موجودگی میں پشاور زلمی اور یونائیٹڈ کا پہلا ٹاکرا
پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا پہلا ٹاکرا
کراچی: پاکستان سپر لیگ (PSL) کے گیارہویں ایڈیشن کا میلہ اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ آج کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ایونٹ کا پہلا 'کوالیفائر' کھیلا جائے گا، جس میں لیگ مرحلے کی سب سے کامیاب ٹیم پشاور زلمی اور تین بار کی فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ مدمقابل ہوں گی۔
شائقین کی واپسی:
اس ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی خبر حکومت کی جانب سے فینز کو سٹیڈیم آنے کی اجازت دینا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی درخواست پر وزیراعظم نے پلے آف میچز میں تماشائیوں کی موجودگی کی منظوری دی، جس سے کھلاڑیوں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ٹیموں کا موازنہ:
پشاور زلمی: زلمی اب تک ایونٹ کی سب سے متوازن ٹیم ثابت ہوئی ہے جس نے 10 میں سے 9 میچز جیتے ہیں۔ بیٹنگ میں کوشل مینڈس (500 رنز) اور بابر اعظم (485 رنز) کی جوڑی حریف بولرز کے لیے ڈراؤنا خواب بنی ہوئی ہے، جبکہ بولنگ میں سفیان مقیم 19 وکٹوں کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ: دوسری جانب یونائیٹڈ کی طاقت ان کا جارحانہ انداز اور نوجوان خون ہے۔ انڈر 19 اسٹار سمیر منہاس (299 رنز) اس وقت سب کی توجہ کا مرکز ہیں، جبکہ تجربہ کار ڈیون کانوے اور کپتان شاداب خان ٹیم کو استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
ماضی اور امکانات:
اگرچہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پشاور زلمی کا پلڑا بھاری ہے، لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کو پلے آف میچز میں ’فیورٹ‘ کی امیدیں توڑنے کا ماہر مانا جاتا ہے۔ آج شام 7 بجے ہونے والا یہ مقابلہ طے کرے گا کہ کون سی ٹیم براہ راست فائنل کا ٹکٹ کٹائے گی۔
آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن‘: پی ایس ایل کی نیلامی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہونے والے کرکٹرز کی کارکردگی کیسے رہی؟
آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن: پی ایس ایل کھلاڑیوں کی رپورٹ
پلے آف مرحلے کا آغازپاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے سنسنی خیز لیگ میچز اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ اب ٹائٹل کی جنگ کے لیے چار بہترین ٹیمیں میدان میں رہ گئی ہیں، جن میں ملتان سلطانز، حیدر آباد کنگز مین، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ شامل ہیں۔ تاہم، اس سیزن میں کرکٹ شائقین اور ماہرین کی توجہ کا اصل مرکز ان کھلاڑیوں کی کارکردگی رہی جن پر نیلامی (آکشن) کے دوران کروڑوں روپے کی بارش کی گئی تھی۔
صائم ایوب: بھاری قیمت، کم رنز
اس سیزن کی سب سے بڑی مایوسی صائم ایوب ثابت ہوئے۔ پاکستان ٹیم کے مستقل اوپنر کو نئی فرنچائز 'حیدر آباد کنگز مین' نے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض خریدا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ ان کے مشہور 'نو لُک شاٹس' حیدر آباد کے لیے رنز کا انبار لگا دیں گے، لیکن صائم 10 میچز میں محض 151 رنز ہی اسکور کر سکے۔ اگر ان کی قیمت اور رنز کا موازنہ کیا جائے تو صائم ایوب کا ایک رن حیدر آباد کنگز مین کو تقریباً آٹھ لاکھ روپے سے زائد میں پڑا۔
صاحبزادہ فرحان: پیسے وصول کارکردگی
صائم ایوب کے برعکس، صاحبزادہ فرحان نے ثابت کیا کہ وہ اس وقت بہترین فارم میں ہیں۔ ملتان سلطانز نے انہیں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور انہوں نے اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے قومی ٹیم کے تسلسل کو پی ایس ایل میں بھی برقرار رکھا۔ ان کی شاندار بیٹنگ نے ملتان سلطانز کو پلے آف میں پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لیگ کا جائزہ
پی ایس ایل 11 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نیلامی میں بڑی قیمتیں ہمیشہ میدان میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ جہاں حیدر آباد کنگز مین نے صائم ایوب کے ناقص فارم کے باوجود بمشکل رن ریٹ کی بنیاد پر لاہور قلندرز کو پیچھے چھوڑ کر پلے آف میں جگہ بنائی، وہیں کئی ایسے گمنام کھلاڑی بھی ابھر کر سامنے آئے جن سے سیزن کے آغاز میں زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔
اب نظریں پلے آف کے اہم میچز پر ہیں، جہاں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا مہنگے کھلاڑی اپنے نام اور قیمت کا بھرم رکھ پاتے ہیں یا پھر کم قیمت والے 'انڈر ڈاگ' کھلاڑی ٹرافی لے اڑیں گے۔















