اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک تاریخی منصوبے ’وزیرِاعظم اپنا گھر پروگرام‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے 5 سالوں میں 32 کھرب روپے کی لاگت سے 5 لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔
📅 پروگرام کا دورانیہ اور ہدف
- کل مدت: 5 سال۔
- پہلے سال کا ہدف: 50 ہزار گھر۔
- درخواستوں کا آغاز: 29 اپریل سے عمل شروع ہو چکا ہے۔
💰 قرض کی تفصیلات اور سلیب
حکومت نے قرض کی رقم کو چار مختلف درجوں (Slabs) میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق انتخاب کر سکے:
- پہلا درجہ: 25 لاکھ روپے تک۔
- دوسرا درجہ: 50 لاکھ روپے تک۔
- تیسرا درجہ: 75 لاکھ روپے تک۔
- چوتھا درجہ: 1 کروڑ روپے تک (زیادہ سے زیادہ حد)۔
- شہریت: صرف پاکستانی شہری (پہلی بار گھر خریدنے والے)۔
- عمر: 20 سے 65 سال کے درمیان۔
- آمدنی: کم از کم ماہانہ آمدنی 40 ہزار روپے۔
- تجربہ: ملازمت پیشہ افراد کے لیے 6 ماہ اور کاروباری افراد کے لیے 2 سال کا تجربہ لازمی ہے۔
- نیا گھر: زیادہ سے زیادہ 10 مرلہ (2720 مربع فٹ)۔
- فلیٹ/اپارٹمنٹ: زیادہ سے زیادہ 1500 مربع فٹ۔
- تعمیرات: اپنے موجودہ پلاٹ پر گھر بنانے کے لیے قرض۔
- پلاٹ پلس تعمیر: پلاٹ خریدنے اور اس پر تعمیرات دونوں کے لیے فنڈز۔
- قرض کی واپسی: 20 سال تک کی آسان اقساط۔
- شرح سود: پہلے 10 سال کے لیے صرف 5 فیصد فکسڈ ریٹ، جبکہ اگلے 10 سال مارکیٹ ریٹ (کائیبور + بینک مارجن) کے مطابق ہوں گے۔
- آن لائن پورٹل: حکومت جلد ہی ایک مخصوص ویب پورٹل فعال کرے گی۔
- بینک سے رجوع: کسی بھی کمرشل بینک، اسلامک بینک یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی (HBFC) کی برانچ سے فارم حاصل کیا جا سکتا ہے۔
- ضروری کاغذات: اصل شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت (سیلری سلپ یا لیٹر پیڈ) اور جائیداد کے کاغذات (اگر موجود ہوں)۔
اہم نکتہ: بینک گھر کی کل قیمت کا 90 فیصد قرض دے گا، جبکہ 10 فیصد رقم درخواست گزار کو خود ادا کرنی ہوگی۔
🔑 اہلیت کا معیار (Eligibility)
🏠 آپ کیا خرید یا تعمیر کر سکتے ہیں؟
اس اسکیم کے تحت درج ذیل آپشنز دستیاب ہیں:
📈 واپسی کی مدت اور شرح سود
📝 اپلائی کرنے کا طریقہ
وزیراعظم کا عزم: شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف چھت کی فراہمی نہیں بلکہ معیشت کا پہیہ چلانے، روزگار پیدا کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ درخواستوں پر ایک ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے اور اس عمل میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔






