امریکہ کے لیے "بری خبر": ایرانی ماہرین کا دعویٰ،
قبضے میں لیے گئے ٹوماہاک اور ڈرونز چین اور روس کو دینے کی تجویز۔
تحریر: ویب ڈیسک تاریخ: 2 مئی 2026
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب یہ لڑائی صرف سرحدوں یا سمندروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ "لیبارٹریوں" اور "ورکشاپس" تک پہنچ چکی ہے۔ تہران سے آنے والی حالیہ رپورٹس نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
امریکہ کے 'ناکام' ہتھیار اب ایران کی ملکیت؟
ایرانی ذرائع اور دفاعی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران امریکہ کے کئی جدید ترین ہتھیار، بشمول ٹوماہاک (Tomahawk) میزائل، AGM-158 اور ایم کیو نائن (MQ-9) ڈرونز، اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ایران کے قبضے میں آ چکے ہیں۔
ایران کے سخت گیر اخبار 'کیہان' کے چیف ایڈیٹر شریعتمداری نے انکشاف کیا ہے کہ ایران ان ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ (Reverse Engineering) کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایران کے کام آئے گی بلکہ اسے چین اور روس جیسے حریف ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکتا ہے۔
ریورس انجینئرنگ: ایران کا پرانا اور مہلک ہتھیار
ایران کے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے ماضی میں بھی امریکی ٹیکنالوجی کا رخ موڑا ہے:
- 2011 کا واقعہ: ایران نے امریکی اسٹیلتھ ڈرون RQ-170 کو الیکٹرانک طریقے سے بحفاظت زمین پر اتار لیا تھا اور بعد میں اس کی نقل تیار کر لی تھی۔
- ہاک میزائل: شاہ کے دور کے امریکی ہاک میزائلوں کو بنیاد بنا کر ایران نے اپنا جدید فضائی دفاعی نظام تیار کیا۔
- دفاعی راز فاش: امریکہ کے مہنگے ترین ہتھیاروں کا توڑ (Antidote) تیار ہو جائے گا۔
- معاشی بوجھ: امریکہ کو اپنی پوری میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑیں گے۔
- تزویراتی برتری کا خاتمہ: مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عسکری غلبہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
"یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ علمی جنگ (Scientific War) کا آغاز ہے۔ ہم امریکی ٹیکنالوجی کی پوشیدہ تہوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔" — احسان خرامید، ایرانی عہدیدار
امریکہ کے لیے 'اربوں ڈالر' کا سر درد
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ایران ان ہتھیاروں کے گائیڈنس سسٹم اور اسٹیلتھ کوڈز کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا، تو:
سرکاری میڈیا کا سخت پیغام
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کو یہ میزائل "بطور تحفہ" واپس کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران یا تو ان ہتھیاروں کو جیم (Jam) کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا یا پھر ان کی نقل بنا کر امریکہ کے خلاف ہی استعمال کرے گا۔
