آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن: پی ایس ایل کھلاڑیوں کی رپورٹ
پلے آف مرحلے کا آغازپاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے سنسنی خیز لیگ میچز اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ اب ٹائٹل کی جنگ کے لیے چار بہترین ٹیمیں میدان میں رہ گئی ہیں، جن میں ملتان سلطانز، حیدر آباد کنگز مین، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ شامل ہیں۔ تاہم، اس سیزن میں کرکٹ شائقین اور ماہرین کی توجہ کا اصل مرکز ان کھلاڑیوں کی کارکردگی رہی جن پر نیلامی (آکشن) کے دوران کروڑوں روپے کی بارش کی گئی تھی۔
صائم ایوب: بھاری قیمت، کم رنز
اس سیزن کی سب سے بڑی مایوسی صائم ایوب ثابت ہوئے۔ پاکستان ٹیم کے مستقل اوپنر کو نئی فرنچائز 'حیدر آباد کنگز مین' نے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض خریدا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ ان کے مشہور 'نو لُک شاٹس' حیدر آباد کے لیے رنز کا انبار لگا دیں گے، لیکن صائم 10 میچز میں محض 151 رنز ہی اسکور کر سکے۔ اگر ان کی قیمت اور رنز کا موازنہ کیا جائے تو صائم ایوب کا ایک رن حیدر آباد کنگز مین کو تقریباً آٹھ لاکھ روپے سے زائد میں پڑا۔
صاحبزادہ فرحان: پیسے وصول کارکردگی
صائم ایوب کے برعکس، صاحبزادہ فرحان نے ثابت کیا کہ وہ اس وقت بہترین فارم میں ہیں۔ ملتان سلطانز نے انہیں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور انہوں نے اس اعتماد پر پورا اترتے ہوئے قومی ٹیم کے تسلسل کو پی ایس ایل میں بھی برقرار رکھا۔ ان کی شاندار بیٹنگ نے ملتان سلطانز کو پلے آف میں پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لیگ کا جائزہ
پی ایس ایل 11 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نیلامی میں بڑی قیمتیں ہمیشہ میدان میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ جہاں حیدر آباد کنگز مین نے صائم ایوب کے ناقص فارم کے باوجود بمشکل رن ریٹ کی بنیاد پر لاہور قلندرز کو پیچھے چھوڑ کر پلے آف میں جگہ بنائی، وہیں کئی ایسے گمنام کھلاڑی بھی ابھر کر سامنے آئے جن سے سیزن کے آغاز میں زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔
اب نظریں پلے آف کے اہم میچز پر ہیں، جہاں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا مہنگے کھلاڑی اپنے نام اور قیمت کا بھرم رکھ پاتے ہیں یا پھر کم قیمت والے 'انڈر ڈاگ' کھلاڑی ٹرافی لے اڑیں گے۔






