پاکستان کا ایران کے لیے 6 تجارتی راہداریاں کھولنے کا اعلان: علاقائی تجارت میں نئے باب کا آغاز
اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور پڑوسی ملک ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق، گوادر، کراچی اور تافتان سمیت مختلف راستوں کو باقاعدہ طور پر 'ٹرانزٹ کوریڈورز' نامزد کر دیا گیا ہے۔
کسٹمز قوانین میں تبدیلی اور شفافیت
وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ ان راستوں کو کھولنے کا مقصد سامان کی ترسیل کو کسٹمز قوانین کے تحت مزید شفاف، محفوظ اور منظم بنانا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ قانونی تجارت سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
مستقبل کی حکمتِ عملی: وسطی ایشیا تک رسائی
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے لیے ان تجارتی راہداریوں کے کھلنے سے پاکستان کے لیے مستقبل میں وسطی ایشیائی ممالک (Central Asian Countries) تک رسائی کے بند دروازے بھی کھل جائیں گے۔ یہ قدم پاکستان کو خطے میں ایک اہم لاجسٹک حب (Hub) کے طور پر ابھارے گا۔
تاریخی پس منظر اور معاہدہ
واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلو میٹر طویل سرحد پر کئی اہم گزرگاہیں موجود ہیں۔ وزارتِ تجارت کے مطابق:
- سن 2008 میں دونوں ممالک کے درمیان بذریعہ سڑک بین الاقوامی تجارت کا معاہدہ طے پایا تھا۔
- موجودہ ایس آر او (SRO) کے تحت ایران کسی بھی تیسرے ملک سے سامان منگوانے یا فروخت کرنے کے لیے پاکستانی زمین کو بطور راہداری استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔
نامزد کردہ 6 تجارتی روٹس کی تفصیل
حکومت کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق درج ذیل راستے ایران کے لیے مختص کیے گئے ہیں:
- گوادر تا گبد (براہ راست سرحد)
- کراچی/پورٹ قاسم – لیاری – اورماڑہ – پسنی – گبد
- کراچی/پورٹ قاسم – خضدار – دالبندین – تافتان
- گوادر – تربت – ہوشاب – پنجگور – بیسمہ – خضدار – کوئٹہ – دالبندین – نوکنڈی – تافتان
- گوادر – لیاری – خضدار – کوئٹہ – دالبندین – نوکنڈی – تافتان
- کراچی/پورٹ قاسم – گوادر – گبد
خلاصہ
سرحدی تناؤ اور خطے کی صورتحال کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان معمول کی تجارت کا تسلسل برقرار رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں ممالک معاشی استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان روٹس کے فعال ہونے سے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔






