2026/04/27

خصوصی رپورٹ: کیا ایرانی ریال آپ کو لکھ پتی بنا سکتا ہے؟ ظفر پراچہ کے سنسنی خیز انکشافات

 ایرانی ریال کی حقیقت: ظفر پراچہ کے انکشافات

ظفر پراچہ کا ایرانی ریال اور کرنسی مارکیٹ پر خصوصی انٹرویو


اسلام آباد / کراچی (نیوز ڈیسک - حقیقت پرائم) پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ان دنوں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے: "ایرانی ریال خریدیں یا نہیں؟" اس حوالے سے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ظفر پراچہ نے "امت ڈیجیٹل" کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مارکیٹ کے وہ پہلو اجاگر کیے ہیں جن سے عام سرمایہ کار لاعلم ہیں۔

ریال کی تاریخ اور اتار چڑھاؤ

​ظفر پراچہ نے ریال کی قدر میں آنے والی تاریخی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شاہِ ایران کے دور میں ایک ڈالر صرف 3 سے 4 ریال کا تھا، جو انقلاب کے بعد 70 ریال تک پہنچا۔ 2015 میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت 5000 پاکستانی روپے تھی، جو جنگی حالات میں گر کر 2500 روپے تک رہ گئی تھی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں مذاکرات کی افواہوں اور مارکیٹ ٹرینڈ کی وجہ سے یہ قیمت 10,000 روپے تک بھی گئی اور اب تقریباً 6 سے 8 ہزار روپے فی کروڑ ریال پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔

ایران کی معاشی استقامت: ایک حیران کن پہلو

​انٹرویو کے دوران ظفر پراچہ نے ایران کی معیشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ:

​"ایران گذشتہ 47 سالوں سے سخت ترین عالمی پابندیوں کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود اس پر ایک پیسے کا قرضہ نہیں ہے۔"


​انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی تیل کی تجارت چینی یوآن میں منتقل کر کے امریکی ڈالر پر انحصار ختم کیا ہے، جس سے اس کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ اگر مستقبل میں پابندیاں ہٹتی ہیں تو ایران کی ترقی کی رفتار دنیا کو حیران کر دے گی۔

پاکستان میں ریال کی مقبولیت کی 3 بڑی وجوہات

​ظفر پراچہ نے بتایا کہ پاکستان، خاص طور پر بلوچستان میں ریال کی طلب زیادہ ہونے کی تین اہم وجوہات ہیں:

  1. سرحدی تجارت: پاک-ایران بارڈر پر زیادہ تر لین دین ریال میں ہوتا ہے۔
  2. ایرانی مصنوعات: بلوچستان میں پیٹرول، اسٹیل اور دیگر اشیاء ایران سے آتی ہیں جس کے لیے ریال درکار ہوتا ہے۔
  3. زائرین: مذہبی زیارات کے لیے ایران جانے والے ہزاروں پاکستانی ریال کا استعمال کرتے ہیں۔

سٹے بازی اور قانونی خطرات

​سرمایہ کاروں کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریال کی ٹریڈنگ کا 80 سے 85 فیصد کام غیر قانونی طور پر ہو رہا ہے، جس پر ایف آئی اے (FIA) کی مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ کویت اور عراق کی کرنسیوں کی مثال یاد رکھیں، جہاں صرف صبر کرنے والوں اور زمینی حقائق کا مطالعہ کرنے والوں نے منافع کمایا۔

آخری مشورہ: پاکستان میں سرمایہ کاری بہتر ہے

​ظفر پراچہ نے واضح کیا کہ چونکہ وہ خود اس کاروبار کا حصہ ہیں، اس لیے وہ کسی کو ریال خریدنے کا براہِ راست مشورہ نہیں دے سکتے تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ سب سے محفوظ اور بہترین سرمایہ کاری پاکستان میں ہے، جیسے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ لوگ فیکٹریاں بند کر کے پلاٹ خرید لیتے ہیں جو کہ ایک "ڈیڈ انویسٹمنٹ" ہے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔