راولپنڈی: لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی ہانیہ عدیل کی ہلاکت کے خلاف دائر درخواست پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا ہے۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کیس پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائیں۔
یہ اہم حکم لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس صداقت علی خان نے میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر سماعت کے بعد جاری کیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ہولناک انکشافات
9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس واقعے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
- معصوم ہانیہ کی موت کسی ایک گولی سے نہیں بلکہ متعدد گولیاں (Firearm Injuries) لگنے کے باعث ہوئی۔
- فائرنگ اتنی بیدردی سے کی گئی کہ بچی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
عدالتی کارروائی اور پولیس کا مؤقف
کیس کی سماعت کے دوران کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اور پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران سی سی ڈی کے افسر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ:
- نو سالہ ہانیہ کے قتل کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔
- واقعے میں ملوث مرکزی ملزم (سی سی ڈی اہلکار) کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
- ملزم کے خلاف نہ صرف سخت محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے بلکہ ایف آئی اے بھی اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر رہا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قانون کے مطابق اگر پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل یا کارروائی کے دوران کوئی شخص ہلاک ہو جائے تو اس کی شفاف تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ جس پر عدالت نے درخواست کو نمٹاتے ہوئے تمام ریکارڈ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے کو بھجوانے کا حکم دیا۔
"یہ کیسے ممکن ہے کہ سی سی ڈی کا اہلکار فائرنگ کر کے ایک نو سالہ بچی کو قتل کرے اور خود سی سی ڈی ہی اس واقعے کی تحقیقات کرے؟"
— میاں آصف محمود ایڈووکیٹ (درخواست گزار)
مبینہ پولیس مقابلے پر اٹھتے سوالات
عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار میاں آصف محمود ایڈووکیٹ نے پولیس کی کارروائی پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹوڈیل کلنگ (حراستی ہلاکتوں) یا پولیس کارروائی میں ہلاکتوں کی شفاف تحقیقات صرف ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے، اسی لیے عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ چکوال کے اس واقعے کے بعد جن دو افراد کو پولیس نے "مبینہ ڈاکو" قرار دے کر پار کر دیا (ہلاک کیا)، ان کے بارے میں بھی تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں کہ وہ کون تھے اور کن مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ اس ابہام نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا ہے۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کا مؤقف
دوسری جانب، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ چکوال واقعے کی ہر پہلو سے باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ:
- یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سی سی ڈی اہلکار نے فائرنگ کے دوران مروجہ طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزی کیوں کی۔
- تحقیقات میں اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ آیا یہ محض مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی تھی یا اس واقعے کے پیچھے کوئی اور گہرے محرکات یا ذاتی وجوہات شامل تھیں۔






