لوڈ ہو رہا ہے...
Facebook | YouTube | Twitter
حقیقت پرائم
سچ کی آواز — آپ کا قابل اعتماد خبری ادارہ
صفحہ اول پاکستان دنیا کھیل کاروبار ٹیکنالوجی تفریح سیاست تعلیم صحت ہمارے بارے میں
صحت

دانتوں کے علاج میں بڑی پیشرفت: بغیر ڈرلنگ اور انجیکشن کے کیڑا ختم کرنے کا نیا طریقہ دریافت

| حقیقت پرائم چینل

 

دانتوں کے جدید اور درد سے پاک علاج کا تصوراتی منظر جس میں ڈرلنگ اور انجیکشن کے بغیر دانتوں کا علاج دکھایا گیا ہے۔



واشنگٹن (نیوز ڈیسک): طبی ماہرین نے دانتوں میں کیڑا اور سڑن لگنے کے علاج کے لیے ایک ایسا جدید اور آسان طریقہ دریافت کر لیا ہے جس میں مریض کو کسی ڈرلنگ مشین، سُن کرنے والے انجیکشن یا بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ایک مخصوص طبی محلول کے محض چند سیکنڈز کے استعمال سے دانتوں کی خرابی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے انتہائی مفید اور راحت بخش ثابت ہو رہا ہے۔

​امریکا میں کی جانے والی اس وسیع اور اہم کلینیکل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ (Silver Diamine Fluoride – SDF) نامی محلول بچوں کے دودھ کے دانتوں میں کیڑے کو پھیلنے سے روکنے میں بے حد کامیاب رہا ہے۔ محققین کے مطابق اس محلول کو استعمال کرنے سے نصف سے زائد علاج شدہ دانتوں میں سڑن کا عمل فوراً رک گیا۔ اس نئے طریقہ علاج کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں دانت کی تراش خراش یا خراب حصے کو کھوپ کر نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرِ دندان ایک چھوٹے اسپنج نما آلے کی مدد سے اس محلول کو براہ راست متاثرہ دانت پر لگاتے ہیں اور ہر دانت پر اس عمل میں صرف چند سیکنڈز کا وقت لگتا ہے۔ ڈینٹسٹس کا کہنا ہے کہ روایتی طریقہ علاج میں بچوں کو فلنگ، شدید دردناک ڈرلنگ اور بعض اوقات مکمل بے ہوشی کے تحت سرجری سے گزرنا پڑتا تھا، جبکہ یہ نیا طریقہ ان تمام دردناک مراحل سے نجات دلاتا ہے اور بچوں میں انفیکشن اور پیچیدگیوں کے خطرات کو بہت حد تک کم کر دیتا ہے۔

​یہ جامع تحقیق یونیورسٹی آف مشی گن کے اسکول آف ڈینٹسٹری کی سربراہی میں کی گئی اور اس کے نتائج مشہور عالمی طبی جریدے JAMA Pediatrics میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیق کے تیسرے مرحلے میں چھ سال سے کم عمر کے 830 بچوں کو شامل کیا گیا تھا اور یہ ٹرائل مشی گن، نیویارک اور آئیووا کے مختلف ڈینٹل کلینکس اور میڈیکل سینٹرز میں مکمل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق ہر چھ ماہ بعد SDF محلول کے استعمال سے تقریباً 38 فیصد متاثرہ دانتوں میں کیڑا لگنے کا عمل مکمل طور پر ختم ہو گیا، جبکہ مجموعی طور پر نصف سے زیادہ دودھ کے دانت مزید خراب ہونے سے محفوظ رہے۔ تحقیق کی سربراہ پروفیسر مارگریٹا فونٹانا کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف بے حد موثر بلکہ مکمل طور پر محفوظ بھی ہے، اور ایک سال تک کی عمر کے چھوٹے بچوں میں بھی اس کے بہترین نتائج دیکھے گئے ہیں۔

​ماہرین نے اس علاج کے حوالے سے ایک اہم پہلو کی بھی وضاحت کی ہے کہ چونکہ اس محلول میں چاندی کے اجزاء شامل ہوتے ہیں، اس لیے دانت کا وہ حصہ جہاں کیڑا لگا ہوتا ہے، محلول لگنے کے بعد مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے، جو اس کا واحد نمایاں سائیڈ ایفیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ڈینٹل ماہرین کے مطابق یہ طریقہ خاص طور پر کم عمر بچوں، بزرگ افراد، جسمانی یا ذہنی معذوری کے شکار مریضوں اور دانتوں کے ڈاکٹر یا سوئی کے خوف میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

​عالمی اعداد و شمار کے مطابق بچوں میں دانتوں کی سڑن اور کیڑا لگنا سب سے عام دائمی بیماری ہے، جو شدید درد، انفیکشن، کھانے میں دشواری اور اسکول سے غیر حاضری کا باعث بنتی ہے۔ یہ ریسرچ پروجیکٹ سال 2018 میں شروع ہوا تھا اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود جاری رہا۔ اس اہم منصوبے کے لیے امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ذیلی ادارے 'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل اینڈ کرینیوفیشل ریسرچ' نے 12 ملین ڈالر سے زائد کی گرانٹ اور فنڈز فراہم کیے تھے۔


ٹیگز: صحت