لوڈ ہو رہا ہے...
Facebook | YouTube | Twitter
حقیقت پرائم
سچ کی آواز — آپ کا قابل اعتماد خبری ادارہ
صفحہ اول پاکستان دنیا کھیل کاروبار ٹیکنالوجی تفریح سیاست تعلیم صحت ہمارے بارے میں

امریکہ جنگی جرائم کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا: ایران کا واضح بیان

| حقیقت پرائم چینل

 

ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کی کونسل سے نکل کر اپنی "جنگی جرائم" کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ میناب میں ایک اسکول 168 بچوں کے خون سے رنگا گیا اور لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس شہریوں کے قتل عام کا میدان بن گیا۔

غریب آبادی نے کہا کہ اب ہر کوئی تسلیم کر رہا ہے کہ میناب اور لامرد میں جو کچھ ہوا وہ کوئی "آپریشنل غلطی" نہیں بلکہ ایک واضح "جنگی جرم" تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ تاریخ ان واقعات کو کبھی نہیں بھولے گی اور امریکہ کو ان جرائم کا جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے ایران کے لیے بین الاقوامی آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے بلا تفریق حملے کر کے ایران میں شہریوں کی موت، زخمی ہونے یا شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا کر "جنگی جرائم" کا ارتکاب کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں امریکہ پر جنگی جرائم کے الزامات

اقوام متحدہ کے ایران کے لیے بین الاقوامی آزاد تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے خلاف "جنگی جرائم" کے ارتکاب کے "معقول شواہد" تلاش کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی افواج نے میناب کے پرائمری اسکول "شجرۂ طیبہ" پر ٹوماہاک میزائل سے حملہ کیا اور لامرد کے اسپورٹس کمپلیکس پر ٹنگسٹن ایمونیشن والے میزائل سے حملہ کیا، دونوں مقامات "واضح طور پر شناخت شدہ" تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے حملوں کے بعد، کم از کم 178 شہریوں کی موت کا سبب بننے والے دو الگ الگ فضائی حملوں میں امریکہ نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ بلا تفریق حملے کر کے شہریوں کی موت، زخمی ہونے یا شہری اشیاء کو نقصان پہنچانا جنگی جرم ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کی ذمہ داری امریکی فوجی اور سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

میناب اور لامرد میں کیا ہوا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو حملوں کے آغاز کے بعد، پہلے ہی گھنٹوں میں صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں زیادہ تر بچے شامل تھے اور 168 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ امریکہ نے کیا اور اسکول کو 40 منٹ کے وقفے سے دو بار نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے اسی دن صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا، جس میں 21 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب وہاں عام شہری موجود تھے۔

ان واقعات کے بعد ایران میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ایرانی عوام نے ان حملوں کو "امریکی جنگی جرائم" قرار دیا۔ ایران کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن میں امریکہ کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

امریکہ کا انسانی حقوق کونسل سے انخلا

واشنگٹن نے فروری 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی فرمان کے ذریعے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے انخلا کر لیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کونسل سمیت اقوام متحدہ کے کچھ ادارے امریکہ کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کونسل سے نکل جانا امریکہ کو ان حملوں کی قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ انسانی حقوق کونسل سے نکل کر اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا"۔

ایران کا موقف اور آگے کا راستہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس موقع پر کہا کہ امریکہ کا شہریوں کے خلاف جارحانہ رویہ "جنگی جرم" اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے کہا کہ اس کے پاس اس سلسلے میں تکنیکی اور قانونی شواہد موجود ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے جرائم کا محاسبہ کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کے تعلقات عامہ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکی قیادت کو اپنے "کالے ریکارڈ" کا جوابدہ ہونا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے مختلف ممالک میں شادی کی تقریبات پر بھی حملے کیے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانا امریکی فوج کا حصہ ہے۔

ایرانی عوام نے بھی سوشل میڈیا پر ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور امریکہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ایرانی طلباء تنظیموں نے بھی ان واقعات پر احتجاج کیا ہے۔

بین الاقوامی ردعمل

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کی کوئی مدتِ محدود نہیں ہوتی اور مجرم کو کسی بھی وقت انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔

مستقبل کی توقعات

واضح رہے کہ انسانی حقوق کونسل کے 47 ارکان پر مشتمل ادارے کے سامنے یہ رپورٹ پیر کو پیش کی جائے گی۔ واشنگٹن نے کونسل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "کئی دہائیوں سے بے معنی باتیں کر رہی ہے"۔ تاہم ایران کا موقف ہے کہ یہ رپورٹ عالمی سطح پر امریکہ کے جنگی جرائم کو بے نقاب کرے گی اور انصاف کی راہ ہموار کرے گی۔

ماہرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث تیز ہو سکتی ہے۔

ایران نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی حکام کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کھولے۔ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔