لوڈ ہو رہا ہے...
Facebook | YouTube | Twitter
حقیقت پرائم
سچ کی آواز — آپ کا قابل اعتماد خبری ادارہ
صفحہ اول پاکستان دنیا کھیل کاروبار ٹیکنالوجی تفریح سیاست تعلیم صحت ہمارے بارے میں

آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی جب تک ٹرمپ اور نیتن یاہو اقتدار میں ہیں: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر کا بیان

| حقیقت پرائم چینل
آبنائے ہرمز ایران امریکہ تنازعہ ٹرمپ نیتن یاہو

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اقتدار میں ہیں، ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ بیان ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جمعرات کو شائع کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے شائع کیے گئے بیان میں ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوم نے جارح دشمن کی طاقت توڑنے اور متکبر قوتوں کی کمر توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو اقتدار سے نہیں ہٹا دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی قوم کے انتقام کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

ایران کے اندر گہرے اختلافات

بی بی سی فارسی کے مطابق ایک طرف جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ یا مذاکرات کے حوالے سے بار بار اور بعض اوقات متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں وہیں ایران کے اندر بھی اس بات پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کے ساتھ فوجی محاذ آرائی جاری رکھی جائے یا مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔

ملک کی بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات بشمول صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرے اور اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر تسلیم کرے۔

دوسری جانب سخت گیر شخصیات، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی شامل ہیں، جنگ جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کو امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی قرار دے رہی ہیں۔

عوام پر معاشی اثرات اور آبنائے ہرمز کی اہمیت

دریں اثنا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اقتصادی پابندیوں اور ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے بحری محاصرے نے ملک کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں کمی نے عوام کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس کے بند رہنے سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جو عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر جاری اختلافات اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے، جس کا اثر نہ صرف ایران بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑے گا۔