لوڈ ہو رہا ہے...
Facebook | YouTube | Twitter
حقیقت پرائم
سچ کی آواز — آپ کا قابل اعتماد خبری ادارہ
صفحہ اول پاکستان دنیا کھیل کاروبار ٹیکنالوجی تفریح سیاست تعلیم صحت ہمارے بارے میں
پاکستان

لاہور ہائی کورٹ میں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی چیلنج، ڈی سی لاہور کے احکامات کالعدم کرنے کی استدعا

| حقیقت پرائم چینل
بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست۔

لاہور ہائی کورٹ میں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی چیلنج، ڈی سی کے احکامات کالعدم کرنے کی استدعا

لاہور ہائی کورٹ میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف ایک اہم درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست ان کے وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور کے غیر قانونی نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست کی تفصیلات

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم ڈپارٹمنٹ، ڈی سی لاہور سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈی سی لاہور نے غیر قانونی طور پر نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ڈی سی کے ان غیر قانونی احکامات کو کالعدم قرار دے اور دونوں بہنوں کی فوری رہائی کا حکم دے۔

نظر بندی کا پس منظر

یاد رہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو لاہور سے حراست میں لے کر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ دونوں کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا، جس کے خلاف ان کے اہل خانہ اور وکلاء نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل بانیٔ پی ٹی آئی کی ایک اور بہن علیمہ خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

سیاسی ردعمل

اس پیش رفت پر پی ٹی آئی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے اسے سیاسی انتقام اور مخالفین کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔

عدالت کی جانب سے آئندہ کارروائی

لاہور ہائی کورٹ میں دائر اس درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظر بندی کے احکامات کی قانونی حیثیت سے متعلق تمام دستاویزات پیش کی جائیں۔

نوٹ: یہ خبر تازہ ترین اطلاعات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے قانونی ماہرین اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔

ٹیگز: پاکستان