جھنگ: (نیوز ڈیسک)
ضلع جھنگ کی معصوم بچی عروج فاطمہ کے لرزہ خیز قتل کیس میں پولیس کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ ڈی پی او جھنگ ساجد حسین نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ صدر سے اب تک کی پیش رفت پر مفصل رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ڈی پی او ساجد حسین کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ کار ہر زاویے سے وسیع کر دیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور سائنسی شواہد کی مدد سے مشکوک افراد کی چھان بین جاری ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے گرد و نواح میں رہنے والے تمام مکینوں کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سراغ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
ترجمان پولیس کے مطابق، اب تک سات مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر انوسٹی گیشن شروع کر دی گئی ہے۔ ان افراد میں جنسی جرائم کے سابقہ ریکارڈ یافتہ، نشے کے عادی اور علاقے کے آوارہ گرد شامل ہیں۔ ڈی پی او جھنگ نے واضح کیا ہے کہ پولیس کی مسلسل کاوشیں مثبت سمت میں جا رہی ہیں اور جلد ہی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئیں گے۔
ڈی پی او ساجد حسین نے انوسٹی گیشن ٹیموں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس معصوم کلی پر ڈھائے گئے ظلم کا درد اپنے دل میں محسوس کر رہے ہیں۔ ان سفاک درندوں کو قانون کے شکنجے میں لانا نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ ہمارا عہد بھی ہے۔"
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سائنسی شواہد اور مصدقہ معلومات کی روشنی میں اس لرزہ خیز واقعے میں ملوث اصل ملزم بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوگا۔






