2026/04/06

ایران میں امریکی پائلٹ کا "ریسکیو آپریشن": افزودہ یورینیم چرانے کی کوشش؟ ایرانی وزارت خارجہ کا سنسنی خیز انکشاف

نیوز گرافک جس میں فوجی ہیلی کاپٹر اور اہلکاروں کے ساتھ ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو اور یورینیم چرانے کے الزام کا متن درج ہے

 

تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے ایران میں حالیہ امریکی پائلٹ کے مبینہ ریسکیو آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک "کور آپریشن" قرار دے دیا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق، اس کارروائی کا اصل مقصد پائلٹ کی جان بچانا نہیں بلکہ ایران کی حساس تنصیبات سے افزودہ یورینیم کی چوری ہو سکتا ہے۔

آپریشن پر اٹھنے والے اہم سوالات

​ایرانی ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے کئی تکنیکی اور جغرافیائی حقائق مشکوک ہیں۔ ترجمان نے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی:

  • مقام کا تضاد: جس علاقے میں امریکی پائلٹ کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا، وہ پائلٹ کے اصل پیرا شوٹ لینڈنگ کے مقام سے کئی میل دور ہے۔ اتنے بڑے فاصلے نے آپریشن کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
  • خفیہ مقاصد کا شبہ: وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس آپریشن کی آڑ میں ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے اور افزودہ یورینیم چرانے کی کوشش کر رہا تھا، جسے ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

امریکہ کے لیے "تباہ کن" نتائج

​ایرانی حکام نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن امریکہ کے لیے "تباہ کن" ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ ترجمان نے آپریشن کے دوران ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلی وضاحت نہیں کی، تاہم ان کے سخت الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فورسز کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

علاقائی صورتحال پر اثرات

​تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے "یورینیم چوری" کا براہ راست الزام دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک خطرناک نہج پر لے جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن کے جواب پر لگی ہیں کہ وہ ان سنگین الزامات کا کیا دفاع کرتا ہے۔