اسلام آباد (رپورٹ: حقیقت پرائم/ ویب ڈیسک) پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی سیز فائر کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔ اس اہم ترین موقع پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس تاریخی مذاکراتی عمل میں حصہ لینے کے لیے دونوں ملکوں کے وفود اور سیکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
ایرانی وفد: ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔
امریکی وفد: وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں جو ہفتے کے روز مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
سیکیورٹی کنٹرول فوج کے حوالے
وزارتِ داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی نے بتایا ہے کہ ریڈ زون کا سیکیورٹی کنٹرول مکمل طور پر فوج کے پاس ہوگا، جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں تعینات ہوں گے۔ انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود کو زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک پھیلا دیا ہے تاکہ غیر ملکی وفود کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
جڑواں شہروں میں تعطیل اور پابندیاں
مذاکرات کی حساسیت کے پیشِ نظر جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) میں دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
تعلیمی ادارے اور عدالتیں: تمام سکول، کالجز اور اعلیٰ عدالتیں (سپریم کورٹ، ہائی کورٹ) اس دوران بند رہیں گی۔
خصوصی ٹریفک پلان: اسلام آباد اور سری نگر ہائی وے کو وفود کی نقل و حرکت کے وقت عارضی طور پر بند رکھا جائے گا اور شہر میں بھاری ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
سیاسی سرگرمیاں: بی بی سی کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف نے موجودہ صورتحال کے باعث سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج ہونے والا احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا کی توجہ
اس مذاکراتی عمل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر سے 50 سے زائد بین الاقوامی صحافیوں نے کوریج کے لیے ویزے کی درخواستیں دی ہیں۔ ان صحافیوں کے لیے پاک چائنا سینٹر یا کنونشن سینٹر میں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔






