فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطے خطے میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ 9 اپریل 2026 کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں صدر میکرون نے خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف کی ہے۔
اس سفارتی پیش رفت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی
صدر میکرون نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کیا اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
2. علاقائی امن و استحکام
دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص لبنان میں جاری جارحیت اور خونریزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ فرانسیسی صدر نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی خطے میں بڑے تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
3. اقتصادی اور تجارتی تعاون
فرانس اور پاکستان کے درمیان صرف سفارتی ہی نہیں بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی پیش رفت ہوئی ہے:
- پاکستان فرانس بزنس فورم: اپریل 2026 میں پیرس میں منعقدہ فورم میں 70 سے زائد فرانسیسی اور پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، جس کا مقصد زراعت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔
- سرمایہ کاری میں اعتماد: صدر میکرون کی جانب سے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے موافق ماحول کی حمایت کی گئی ہے۔
4. موسمیاتی تبدیلی اور تعمیرِ نو
فرانس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور سیلاب کے بعد کی تعمیرِ نو (Resilient Pakistan) کے منصوبوں میں بھی پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
خلاصہ:
صدر میکرون کا حالیہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی "امن کار" (Peacemaker) کی حیثیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر کے اپنی سفارتی اہمیت کو دوبارہ ثابت کیا ہے، جس پر فرانس جیسے اہم یورپی ملک نے کھلے دل سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔






