اسلام آباد / عالمی ڈیسک:
بی بی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں سے جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے سے قبل عالمی سطح پر سفارتی اور اقتصادی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ دنیا بھر کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کے ہنگامی اقدامات
جاپانی ذرائع ابلاغ نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ٹوکیو حکومت نے اپنے ہنگامی ذخائر میں سے 20 دن کا تیل نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت پر قابو پایا جا سکے۔ جاپان کی بحری فوج آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ ایندھن لانے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ادھر آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے سنگاپور میں ہنگامی ملاقاتیں کی ہیں جن کا مقصد ایندھن کی فراہمی کے متبادل راستوں اور ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔
اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا محور
امن کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم ترین موڑ اس وقت آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد پہنچے، جہاں وہ ہفتے سے ایران کے ساتھ اہم مذاکرات شروع کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق، ان مذاکرات کی کامیابی پر نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی معیشت کا استحکام بھی منحصر ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امن کی امید
دوسری جانب، لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی جانی نقصان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم، بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ امن معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار رہنے کا اشارہ دیا ہے، جسے تنازعے کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






