واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ طویل مذاکراتی عمل کے باوجود ایران نے امریکہ کی پیش کردہ کلیدی شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث تعطل برقرار ہے۔
مذاکرات اور امریکی 'ریڈ لائنز'
پریس کانفرنس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنی ترجیحات اور "ریڈ لائنز" (سرخ لکیریں) پہلے ہی واضح کر دی تھیں۔ انہوں نے بتایا:
"ہم نے بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں، کن باتوں پر ہم مفاہمت کر سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔ لیکن ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ6 وہ ہماری شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔"
وہ کڑی شرائط جن پر اتفاق نہ ہو سکا
بند دروازوں کے پیچھے 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات کی تمام تفصیلات تو عام نہیں کی گئیں، تاہم جے ڈی وینس نے ان بنیادی نکات پر روشنی ڈالی ناکامی کی بڑی وجہ بنے:
جوہری ہتھیاروں کی مکمل ممانعت: امریکہ ایران سے یہ حتمی یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
ٹیکنالوجی اور آلات کا حصول: واشنگٹن کی شرط تھی کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار مخصوص آلات اور ٹیکنالوجی تک رسائی کی کوششیں مکمل طور پر ترک کر دے۔
مستقبل کی آمادگی کا فقدان: امریکی نائب صدر کے مطابق، اگرچہ ایران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو پہلے ہی نقصان پہنچایا جا چکا ہے، لیکن ایرانی قیادت میں وہ "آمادگی" نظر نہیں آئی کہ وہ مستقبل میں ایٹمی پروگرام سے مستقل دستبردار ہو جائیں۔
امریکی صدر کا ہدف
جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکی صدر کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رکھنا ہے اور تمام تر سفارتی کوششیں اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کی جانب سے واضح آمادگی اور ٹھوس یقین دہانی سامنے نہیں آتی، تعطل ختم ہونا مشکل ہے۔






