2026/04/12

اب فیصلہ امریکہ نے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں، ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ قالیباف



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، حقیقت پرائم)

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اہم مذاکرات کے بعد ایرانی وفد کے سربراہ اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک ایسا بیان جاری کیا ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

تاریخی عدم اعتماد اور مذاکرات کا احوال:

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، قالیباف نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے مکمل ارادے کے ساتھ میز پر آیا تھا، لیکن ماضی کی دو بڑی جنگوں کے تلخ تجربات کی بنیاد پر ایرانی وفد مخالف فریق (امریکہ) پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی ٹیم نے کئی تعمیری تجاویز پیش کیں، تاہم امریکی وفد ایران کا اعتماد جیتنے میں مکمل طور پر ناکام رہا

امریکہ کے لیے واضح پیغام:

قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکہ اب ہمارے منطقی اصولوں سے بخوبی واقف ہو چکا ہے۔ اب فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں"۔ انہوں نے واشنگٹن کو باور کرایا کہ اب مزید پیش رفت کا انحصار ان کے رویے پر ہے۔

فوجی اور سفارتی حکمت عملی:

حقیقت پرائم کے مطابق، ایرانی سپیکر نے ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے دوہری حکمت عملی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف میز پر ہونے والی گفتگو ہی نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر "فوجی جدوجہد" پر بھی کامل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے "چالیس دن کی جنگ" میں حاصل ہونے والی دفاعی کامیابیوں کو ایران کا ناقابلِ تسخیر اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پاکستان کی سہولت کاری کا اعتراف:

مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے پر قالیباف نے حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے بہترین میزبانی اور سہولت کاری فراہم کی۔ آخر میں انہوں نے اپنے وفد کے ارکان کی ہمت افزائی کرتے ہوئے انہیں "خدا حافظ" کہا۔