بادام کا استعمال: فوائد اور ممکنہ خطرات
بادام قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو کیلشیم، آئرن، وٹامن ای اور میگنیشیم جیسے اہم اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ جہاں خاندان کے بزرگ اسے بچوں کی ذہنی نشوونما اور حافظے کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں، وہیں جدید طبی تحقیق نے اس کے بے جا استعمال پر خبردار کیا ہے۔
/h3>
گردوں کے لیے بڑا خطرہ
طبی ماہرین کے مطابق، بادام میں ’آکسیلیٹس‘ پائے جاتے ہیں۔ اگر بادام حد سے زیادہ کھائے جائیں تو یہ آکسیلیٹس جسم میں جمع ہو کر گردوں میں پتھری پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک ضرورت سے زیادہ بادام کھانے سے گردوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ <
دیگر طبی مسائل
بادام کی گرم تاثیر اور فائبر کی زیادتی جہاں ہاضمے میں مدد دیتی ہے، وہیں اس کا زیادہ استعمال بدہضمی، قبض اور جلد کے مسائل (جیسے دانے یا الرجی) کا سبب بھی بن سکتا ہے <
استعمال کی صحیح مقدار
ماہرینِ صحت نے عمر کے لحاظ سے بادام کی درج ذیل مقدار تجویز کی ہے:
- بالغ افراد: دن میں 20 سے 23 بادام (تقریباً 30 گرام)۔
- بچے: دن میں صرف 10 بادام۔.
وزن میں کمی اور دل کی صحت
دلچسپ بات یہ ہے کہ اعتدال میں بادام کھانے والے افراد کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔ اس میں موجود ’مونو سیچوریٹڈ فیٹس‘ اور فائبر پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتے ہیں اور کولیسٹرول کو کم کر کے دل کو مضبوط بناتے ہیں۔
کھانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
کچھ ماہرین کچے بادام کو ان کے قدرتی تیل کی وجہ سے مفید قرار دیتے ہیں، جبکہ اکثر کا مشورہ ہے کہ بادام رات بھر بھگو کر اور صبح چھلکا اتار کر کھائے جائیں تاکہ وہ جلد ہضم ہو سکیں۔






