اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا مرکز
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں، تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کے تازہ بیان نے ان مذاکرات پر شکوک کے بادل پیدا کر دیے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی تک مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات
ایرانی بیان کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ پنجاب بھر سے 6 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار طلب کر لیے گئے ہیں، جن میں ایلیٹ فورس کے 200 ماہر نشانہ باز (سنائپرز) بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ نے مقامی شہریوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ سکیورٹی پروٹوکول کے پیشِ نظر ’نہ خود چھتوں پر جائیں اور نہ ہی بچوں کو جانے دیں‘۔
ٹرمپ کی آمد اور ریڈ زون کی صورتحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے کہ ’معاہدہ ہونے کی صورت میں وہ خود پاکستان جا سکتے ہیں‘، سکیورٹی اداروں کو مزید متحرک کر دیا ہے۔ راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر امریکی طیاروں کی آمد و رفت جاری ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع بڑے ہوٹلوں (سرینا اور میریٹ) کو خالی کروا لیا گیا ہے تاکہ دونوں وفود کی محفوظ میزبانی کی جا سکے۔
مذاکرات کا پس منظر
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مذاکرات 21 اپریل سے شروع ہوں گے۔ اگرچہ ایران تذبذب کا شکار ہے، لیکن پاکستان نے ایک سہولت کار کے طور پر تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔ دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان ایک بار پھر دو بڑے حریفوں کو میز پر لانے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں