ٹرمپ کی ایران کو دھمکی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں ایک طرف مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے تو دوسری طرف سخت وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔
’بلیک میلنگ‘ قبول نہیں
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ اس وقت ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے، لیکن ہم تہران کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حساس معاملے کو بطور ہتھیار استعمال کرے یا امریکہ کو ’بلیک میل‘ کرے۔
47 سالہ تاریخ کا حوالہ
صدر ٹرمپ نے ایران کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ 47 سالوں سے اسی قسم کے حربے استعمال کرتا آیا ہے۔ ان کا اشارہ ایران کے اس رویے کی طرف تھا جہاں وہ عالمی بحری گزرگاہوں میں مداخلت کی دھمکی دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے
اقتصادی ناکہ بندی اور شرائط
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور سخت پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایران کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، ایران پر دباؤ کم نہیں کیا جائے گا
تجزیہ: ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان "مذاکرات اور دباؤ" کی دوہری حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کرنا ہے جو مکمل طور پر امریکی مفادات کے مطابق ہو۔






