آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش: عالمی معیشت اور توانائی کے لیے بڑا خطرہ،
برلن (نیوز ڈیسک):
جرمنی نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری راستے کی بندش سے دنیا کو تیل اور گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جرمن چانسلر نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کرے گی بلکہ اس کے براہِ راست اثرات یورپ سمیت پوری دنیا میں قیمتوں میں اضافے اور عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔
جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ اگرچہ یورپ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ متبادل ذرائع سے حاصل کر رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی کے پاس تیل اور گیس کے مناسب ذخائر تو موجود ہیں، لیکن عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کسی بھی کمی کے اثرات بالواسطہ طور پر جرمن معیشت کو بھی متاثر کریں گے۔
سفارتی کوششوں کی ضرورت:
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جرمنی کی اولین ترجیح سفارتی ذرائع کا استعمال ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت میں کھلا رکھا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھا جائے کیونکہ یہ معاملہ صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
