2026/05/16

ہم تو ڈوبیں گے صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے" – کوکین کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کا عدالت میں دھماکے دار بیان!

لاہور سے کراچی منتقلی اور بنی گالہ کا نام لینے کا دباؤ: منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کا عدالت میں ہنگامہ خیز بیان

"کوکین کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کی تصویر جس پر اردو میں 'ہم تو ڈوبیں گے صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے' اور 'دھماکے دار بیان' لکھا ہوا ہے۔"


کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کے علاقے ملیر میں منشیات (کوکین) برآمدگی کے کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ملزمہ کو جب ملیر کورٹ میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تو عدالت کے باہر شدید ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ صحافیوں کے سوال پر کہ "وہ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی ہیں؟" ملزمہ انمول نے اونچی آواز میں کہا: "ہم تو ڈوبیں گے صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔"

​وکیل میر ہدایت اللہ کے سنسنی خیز دعوے

​ملزمہ کے وکیل میر ہدایت اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تفتیش کاروں اور پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کا دعویٰ ہے کہ ان کی موکلہ طویل عرصے سے یہ کام کر رہی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پولیس کے پاس سارے ثبوت تھے تو انہیں پہلے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

​وکیل نے دعویٰ کیا کہ:

  • ​ملزمہ انمول کو لاہور سے کراچی لایا گیا اور یہاں ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا جا رہا ہے۔
  • ​ملزمہ سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی۔
  • ​سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب ملزمہ پولیس کی زیرِ حراست تھیں، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک گھر میں لے جایا گیا اور ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی۔
  • ​انمول گزشتہ 20 سال سے کراچی میں رہائش پذیر ہی نہیں ہیں۔

​"بنی گالہ کا نام لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے"

​ملزمہ انمول نے بین الاقوامی منشیات کے گینگ سے تعلق کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وکیل ہدایت اللہ کے مطابق، ان کی موکلہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مخصوص لوگوں کے نام لیں۔ وکیل نے کہا، "میری موکلہ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ بنی گالہ کا نام لو اور جن لوگوں کے نام ہم بتاتے ہیں، ان کے نام لو۔"

​عدالت میں پیشی اور ریمانڈ

​واضح رہے کہ جمعہ کے روز پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انمول کے گھر سے کوکین برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد انہیں ریمانڈ کے لیے ملیر کورٹ لایا گیا۔ پیشی کے وقت ملزمہ نے خود بھی چیخ کر کہا کہ ان سے زبردستی اور جھوٹے بیان دلوائے جا رہے ہیں کہ وہ "بنی گالہ میں کسی بندے کو سامان (منشیات) سپلائی کرتی تھیں"۔

​وکیل کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں میڈیا سے کھل کر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاہم اس کیس میں سیاسی رنگ شامل ہونے کے بعد عوام اور میڈیا کی توجہ اس پر مرکوز ہو گئی ہے۔