2026/05/16

آن لائن ادائیگی، لائیو لوکیشن اور 10 منٹ میں ڈیلیوری؛ منشیات فروش انمول عرف پنکی کا انوکھا طریقہ کار بے نقاب

 


Anmol alias Pinky drug supply case Karachi court remand

ن لائن ادائیگی، لائیو لوکیشن اور 10 منٹ میں ڈیلیوری: منشیات فروش انمول عرف پنکی کا طریقہ کار سامنے آ گیا، 22 مئی تک ریمانڈ منظور

کراچی (ویب ڈیسک): کراچی میں کوکین سپلائی کے کیس میں گرفتار بدنام زمانہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزمہ کا اپنے کسٹمرز کو منشیات کی ترسیل (سپلائی) کرنے کا انتہائی جدید اور خفیہ طریقہ کار سامنے آ گیا ہے۔

​کسٹمرز کو منشیات کیسے پہنچائی جاتی تھی؟

​تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی براہِ راست کسٹمرز سے ملنے کے بجائے شہر کے مختلف مقامات پر منشیات رکھوا دیا کرتی تھی۔

    • ​جیسے ہی کسٹمر کی طرف سے رقم موصول ہوتی، اس کے ٹھیک 10 منٹ بعد متعلقہ لوکیشن پر منشیات پہنچا دی جاتی تھی۔
    • ​منشیات رکھنے کے بعد اس جگہ کی لائیو لوکیشن (Live Location) اور وہاں چھپائی گئی منشیات کی تصاویر کسٹمر کو موبائل پر بھیج دی جاتی تھیں تاکہ وہ اسے آسانی سے اٹھا لے۔

​موبائل ڈیٹا فرانزک اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات

​کیس میں سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تفتیش کے دوران ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک کرا لیا گیا ہے، جس سے نیٹ ورک کی بڑی تفصیلات ہاتھ آئی ہیں:

    • ​ملزمہ کے موبائل ڈیٹا سے کل 800 سے زائد نمبرز ملے ہیں، جن میں سے 200 سے زائد افراد کا تعلق صرف کراچی سے ہے۔
    • ​اس کے علاوہ، ملزمہ کے لاہور میں کرایے پر حاصل کیے گئے گھر کا کرایہ نامہ بھی تفتیش کاروں نے حاصل کر لیا ہے۔
    • ​مالیاتی امور کی جانچ پڑتال کے لیے ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور کراچی میں موجود جائیدادوں کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل بینک اسٹیٹمنٹ حاصل کر کے ایف آئی اے (FIA) کو بھی اس حوالے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔

​22 مئی تک ریمانڈ منظور اور ہائی لیول کمیٹی کا اجلاس

​دوسری جانب، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے منشیات کیس کی سماعت کرتے ہوئے وکلاء کی استدعا پر ملزمہ انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے اور انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ کراچی میں درج دیگر 15 مقدمات میں بھی ملزمہ سے تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

​کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جہاں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کمیٹی کو اب تک ہونے والی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور کیس کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔