بیروت/ یروشلم:
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے۔ ہتھیاروں کے ماہرین اور سینٹر فار انفارمیشن ریزیلیئنس کے سینیئر تحقیق کار لیون ہداوی نے بی بی سی ویریفائی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ انتہائی کم لاگت والے 'ایف پی وی (FPV) ڈرونز' کا استعمال کر کے اسرائیلی فوج کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق یہ ڈرونز کسی جدید ترین فوجی فیکٹری میں نہیں، بلکہ چین جیسے مقامات سے حاصل کیے گئے عام تجارتی (کمرشل) پرزوں سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان عام پرزوں کے ساتھ 3D پرنٹرز کے ذریعے تیار کردہ حصے بھی جوڑے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ پرزے غیر عسکری نوعیت کے ہیں اور مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں، اس لیے ان کی سپلائی چین کا سراغ لگانا اور انہیں روکنا تقریباً ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔
صرف 300 ڈالرز میں تباہ کن ہتھیار:
حیرت انگیز طور پر ایک FPV ڈرون کو تیار کرنے کی لاگت محض 300 سے 500 ڈالرز کے درمیان آتی ہے۔ ان سستے ڈرونز کو گرینیڈز سے لیس کیا جاتا ہے، اور ماہرین کے مطابق جنوبی لبنان میں اس وقت گرینیڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔
اسرائیلی فوج پر نفسیاتی اثرات:
لیون ہداوی کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں نے اسرائیلی فوجیوں پر گہرے 'نفسیاتی اثرات' مرتب کیے ہیں۔ یہ ڈرونز اتنے خطرناک اور تیز رفتار ہیں کہ یہ اسرائیل کی انتہائی محفوظ اور مہنگی ترین بکتر بند گاڑیوں کو بھی سیکنڈوں میں نشانہ بنا کر تباہ کر سکتے ہیں۔
تنازع کا پس منظر اور جانی نقصان:
یاد رہے کہ اس حالیہ شدید کشیدگی کا آغاز رواں سال 2 مارچ کو اس وقت ہوا تھا جب 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے گئے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں وسیع پیمانے پر فضائی اور زمینی آپریشن شروع کیا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک اس تنازع میں کم از کم 2,896 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہلاک ہونے والے 400 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔ اس جنگ کے باعث لبنان میں 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے اپنے 4 فوجیوں اور 18 شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔






