تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے “پرواز کارڈ” اسکیم کے تحت بیرونِ ملک ملازمت کے لیے منتخب ہونے والے کامیاب امیدواروں کے پہلے گروپ سے روانگی سے قبل ایک خصوصی الوداعی ملاقات کی۔ اس باوقار تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ کو “پرواز کارڈ” اور “اسکل سٹی” (Skill City) منصوبوں کی پیشرفت، شفافیت اور طریقہ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
حکومتِ پنجاب اٹھائے گی تمام اخراجات
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ “پرواز کارڈ” اسکیم کے تحت 135 نوجوانوں پر مشتمل پہلا بیج (Group) 28 جون کو بیرونِ ملک روانہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ان کی بیرونِ ملک روانگی، ویزا پروسیسنگ اور سفری دستاویزات سے متعلق تمام تر اخراجات حکومتِ پنجاب خود برداشت کرے گی، تاکہ وسائل کی کمی کسی بھی باصلاحیت نوجوان کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔
### عالمی مارکیٹ میں روزگار اور معاشی ترقی
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک جانے سے نہ صرف پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے بہترین اور عالمی معیار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کا قیمتی تجربہ بھی حاصل ہوگا۔ انہوں نے روانہ ہونے والے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کے نظام اور معاشرت کا گہرا مشاہدہ کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ترقی یافتہ اقوام اور ہمارے معاشرے میں کیا بنیادی فرق ہے، تاکہ وہ واپس آکر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
### 5 لاکھ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت کا ہدف
ہنرمند افرادی قوت (Skilled Workforce) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دنیا بھر میں صرف اسی ورک فورس کی عزت اور مانگ ہے جو جدید مہارتوں سے لیس ہو۔ اسی وژن کے تحت پنجاب حکومت نے صوبے کے 5 لاکھ نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹریننگ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں جدید ترین ٹریننگ لیبارٹریاں اور سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان لیبارٹریوں میں نوجوانوں کو صرف وہی ہنر سکھائے جا رہے ہیں جن کی عالمی مارکیٹ میں شدید طلب ہے۔
### روشن مستقبل اور مضبوط ملکی معیشت
مریم نواز شریف نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ بیرونِ ملک ان کے لیے بہتر تنخواہیں، محفوظ اور جدید کام کا ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس اقدام سے جہاں ایک طرف نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کا مستقبل روشن ہوگا، وہاں دوسری طرف بیرونِ ملک سے آنے والے زرمبادلہ (Remittances) کے ذریعے پاکستان کی ملکی معیشت کو بھی ایک بڑا سہارا ملے گا






