وی لو پاکستان“: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا تاریخی مصالحتی کردار اور امریکی نائب صدر کا اعتراف
برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ (21 جون، 2026):
عالمی سیاست اور سفارت کاری کے میدان سے پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے مشہورِ زمانہ برگن اسٹاک ریزورٹ میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی حساس اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھلے عام پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ویری گُڈ، وی لو پاکستان“ (بہت اچھے، ہمیں پاکستان سے محبت ہے)۔ امریکی نائب صدر کا یہ پُرجوش بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کو ٹالنے اور دو روایتی حریفوں—امریکہ اور ایران—کو مذاکرات کی میز پر لانے میں دنیا کا سب سے اہم ’برج بلڈر‘ (پل کا کردار ادا کرنے والا ملک) بن کر ابھرا ہے۔
صحافی کا سوال اور امریکی نائب صدر کا جذباتی ردِعمل
سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں، جہاں ایران اور امریکہ کے وفود تکنیکی سطح کے امن مذاکرات کے لیے جمع ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جب ہال میں داخل ہو رہے تھے تو وہاں موجود بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے انہیں گھیرا۔ ایک صحافی نے جب جے ڈی وینس سے پاکستان کے سفارتی اور مصالحتی کردار کے حوالے سے سوال پوچھا، تو امریکی نائب صدر نے نہ صرف روایتی سفارتی جواب دینے سے گریز کیا بلکہ انتہائی پُرجوش انداز میں پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا:
”ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔ آپ لوگوں نے (امریکہ اور ایران کے درمیان) اس مشکل ترین مرحلے پر جو سفارتی کردار ادا کیا ہے اور جو کچھ بھی کیا ہے، اس کے لیے ہم دل سے آپ کے شکر گزار ہیں۔“
امریکی نائب صدر کے اس بیان نے نہ صرف بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پاکستان کی فوجی اور سویلین قیادت کی پسِ پردہ سفارت کاری کو کس قدر اہمیت دے رہی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور اہم وفود کی شرکت
اس تاریخی موقع پر پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔ پاکستانی وفد نے برگن اسٹاک ریزورٹ کے سائیڈ لائنز پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر پر مشتمل اعلیٰ سطح کے امریکی وفد سے تفصیلی دوطرفہ ملاقات کی۔
دوسری جانب، ایران کی طرف سے بھی ایک انتہائی طاقتور وفد سوئٹزرلینڈ پہنچا ہے جس کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپلیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں قطر اور سوئٹزرلینڈ کی حکومتیں بھی معاون کا کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم مذاکرات کا بنیادی ڈھانچہ اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا اصل ذریعہ پاکستان بنا ہے۔






