امریکہ اور اسرائیل کا خطرہ: ایرانی حکام کا داخلی اتحاد پر زور، ایم او یو پر تنازع شدت اختیار کر گیا
ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ دشمنی پر مبنی کارروائیوں کے شدید خطرات کے پیشِ نظر، سینیئر ایرانی عہدیداروں نے ملک کے تمام سیاسی اور نظریاتی دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر فوری طور پر قومی اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی دشمن اس وقت ایران کے اندرونی انتشار کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں بیٹھے ہیں، لہذا اس نازک موڑ پر کوئی بھی داخلی تصادم ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عہدیدار اتحاد پر زور کیوں دے رہے ہیں؟
ایرانی قیادت کو اس وقت اندرونی طور پر سخت گیر حلقوں (Hardliners) کی جانب سے سفارتی مذاکرات اور حال ہی میں سامنے آنے والی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر شدید تنقید اور مزاحمت کا سامنا ہے۔ سینیئر حکام اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس اہم مرحلے پر ملک کے اندرونی دھڑے آپس میں دست و گریبان ہوئے، تو اس سے بین الاقوامی سطح پر ایران کا سیاسی اور سفارتی موقف کمزور پڑ جائے گا۔ ایران کی اس کمزوری کا براہِ راست فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو پہنچ سکتا ہے، جو پہلے ہی خطے میں ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
نائب صدر محمد رضا عارف کا ناقدین کو کرارا جواب
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے مفاہمت کی یادداشت (MoU) کے سخت گیر ناقدین کو بالواسطہ لیکن انتہائی سخت جواب دیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ:
سفارت کاری اور بین الاقوامی امور پر مختلف آراء اور اختلافات ہونا ایک فطری عمل ہے۔
ان سیاسی اختلافات کو کسی بھی صورت داخلی تنازعات اور ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نائب صدر کا کہنا تھا:
"ہماری سفارت کاری دراصل میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور قربانیوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تمام دھڑوں کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے اب تک کے نتائج کا احترام کریں اور بیرونی دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قومی اتحاد کی دیوار بن جائیں۔"
شہریار حیدری کا انتباہ: "مخالفت اسرائیلی مقاصد کو پورا کرے گی"
سابق رکنِ پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی کے سابق ممبر شہریار حیدری نے بھی میدان میں آتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے داخلی ناقدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ:
یہ ایران کا فولادی قومی اتحاد ہی تھا جس نے بالآخر امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے اور اس ایم او یو (MoU) کو قبول کرنے پر مجبور کیا۔
اس معاہدے کی تمام شرائط مجموعی طور پر ایران کے قومی اور سٹریٹجک مفادات کے عین مطابق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت معاہدے کی اندھی مخالفت کرنا دراصل اسرائیلی مقاصد اور ایجنڈے کو پورا کرنے کے مترادف ہے۔ شہریار حیدری نے ناقدین کو یاد دہانی کروائی کہ تمام مذاکرات اور کسی بھی حتمی معاہدے کو بالآخر رہبر اعلیٰ (آیت اللہ خامنہ ای) کی منظوری درکار ہوتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ انھی کی ہدایات کے تابع ہے اور کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
اصل کشمکش: بحث اب کس نقطے پر ہے؟
موجودہ سیاسی صورتحال اور بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران کے سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے کہ آیا اس ایم او یو (MoU) پر دستخط ہونے چاہئیں یا نہیں۔ اب اصل کشمکش، تنازع اور بحث کا مرکز صرف یہ ایک نقطہ بن چکا ہے:
کیا اس معاہدے کی حتمی شرائط رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی بیان کردہ 'سرخ لکیروں' (Red Lines) اور ایران کے دفاعی و جنگی مقاصد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟
جہاں ایک طرف حکومت اور سفارت کار اسے ملک کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہیں سخت گیر طبقہ اب بھی اس تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں ان شرائط سے ایران کے بنیادی موقف پر کوئی آنچ نہ آ جائے۔






