معاہدے کی مکمل تفصیلات اور اہم شقیں
1۔ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی
معاہدے کی سب سے پہلی اور اہم ترین شق کے مطابق، لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر ہر قسم کی فوجی کارروائیاں اور جنگی سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی۔
2۔ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی مہلت
امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ موجودہ نکات کی بنیاد پر وہ زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر ایک مکمل اور حتمی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
3۔ بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور امریکی افواج کا انخلا
- امریکہ اگلے 30 دنوں کے اندر اندر ایران پر عائد اپنی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دے گا، جس کے بعد سمندری آمدورفت جنگ سے پہلے کی صورتحال پر بحال ہو جائے گی۔
- حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے 30 دن کے اندر، امریکہ ایران کے اطراف کے علاقوں سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا بھی پابند ہوگا۔
4۔ آبنائے ہرمز کے لیے خصوصی ریلیف
دنیا کی اہم ترین تجارتی اور آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' اگلے 60 دنوں تک کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے بغیر جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی۔ اس مدت کے بعد، ایران خلیجی ممالک (خصوصاً عمان) کے ساتھ مل کر اس گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک طویل المدتی اور مستقل معاہدہ کرے گا۔
5۔ 300 ارب ڈالر کا ترقیاتی فنڈ
ایران کو جنگ کے اثرات سے نکالنے اور اس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی مل کر کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک خطیر فنڈ قائم کریں گے۔ یہ رقم ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
6۔ تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ
اس معاہدے کے تحت امریکہ، ایران پر اب تک عائد تمام قسم کی معاشی، تجارتی اور سفارتی پابندیاں ختم کرنے کا پابند ہوگا۔ ان پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔
7۔ جوہری پروگرام اور ہتھیاروں کی ممانعت
جوہری معاملے پر ایران نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ مزید برآں، ایران اپنے پاس موجود پہلے سے افزودہ شدہ جوہری مواد کو 'بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی' (IAEA) کی نگرانی میں موقع پر ہی دوسرے کیمیکلز کے ساتھ ملا کر ہمیشہ کے لیے غیر مؤثر (تلف) کر دے گا۔
نوٹ: بی بی سی کے مطابق، اس تاریخی معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی جانب ایک بڑا اور اہم ترین قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔






