2026/06/10

بریکنگ نیوز: ایران پر امریکی حملے! ٹرمپ کا دوبارہ بڑے حملے کا اعلان، مڈل ایسٹ میں جنگ چھڑ گئی؟

 


ایرن پ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو سخت ترین فوجی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے: "ہم نے گذشتہ روز بھی ایران پر ایک سخت حملہ کیا تھا، اور ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔" ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئے جوہری معاہدے کے قریب ہیں لیکن تہران حیل و حجت سے کام لے رہا ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے قبل پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی تھی۔

تنازع کی اصل وجہ اور امریکی کارروائی:

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے قریب امریکی فوج کے AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر (Apache Helicopter) کو گرائے جانے کے جواب میں کی گئی۔ امریکی فضائیہ اور بحریہ کے جنگی طیاروں نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں جسک، سرک اور قشم میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنز اور رڈارز کو نشانہ بنایا۔

ایران کا جوابی حملہ اور دعوے:

دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں سے سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور اور پینے کے پانی کے ٹینکوں کو نقصان پہنچا، جس سے ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں۔

اس کے جواب میں ایران نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے اردن کے علاقے الازرق میں قائم امریکی فوجی اڈے (Muwaffaq Salti Air Base) کو نشانہ بنایا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وہاں موجود امریکی F-35 جنگی طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ سینٹر کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم، اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کی طرف سے آنے والے 5 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور زمین پر کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔