2026/06/09

ایرانی حملے میں امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کی تصدیق: اب ہمیں ردِعمل دینا پڑے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

م

​ڈونلڈ ٹرمپ کی سنجیدہ تصویر کے ساتھ پس منظر میں آگ کی لپیٹ میں گرتا ہوا امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور ایرانی پرچم، جس پر اردو میں 'ایران کا حملہ: امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا' اور ٹرمپ کا بیان لکھا ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز میں بڑا دھماکہ! ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم

واشنگٹن / مسقط (ویب ڈیسک):

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب گشت پر مامور امریکی فوج کے انتہائی جدید اپاچی (AH-64 Apache) ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس حملے کے بعد اب امریکہ کو لازماً سخت ردِعمل دینا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ٹروتھ سوشل' (Truth Social) پر جاری ایک بیان میں کہا:

"مجھے ابھی ہماری عظیم فوج نے آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ہمارے ایک انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے، تاہم امریکہ اس حملے کا جواب ضرور دے گا۔"

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کی تصدیق کی ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ واقعہ عمان کے ساحل کے قریب پیش آیا، جہاں امریکی بحریہ کے جدید سرفیس ڈرون (Corsair Sea Drone) اور فضائیہ کی مدد سے دونوں پائلٹس کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم، سینٹکام نے اپنے ابتدائی بیان میں تاحال کسی ایرانی حملے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا اور کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض حکام اسے مکینیکل خرابی بھی قرار دے رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے لیے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور صدر ٹرمپ نے حال ہی میں امید ظاہر کی تھی کہ اگلے دو سے تین دنوں میں امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اس نئے تنازع کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ "ہم سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دوسری زبانیں زیادہ روانی سے بولنا جانتے ہیں