2026/06/08

جنگ بندی کے بعد تہران کا اسرائیل پر پہلا حملہ تنازع شدت اختیار کر گیا ٹرمپ کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جوابی کاروائی

 


Israel retaliatory airstrikes on Iran Tehran Tabriz Isfahan after ceasefire Trump warning news thumbnail.



​اسرائیل کا ایران پر بڑا عسکری حملہ: تہران، تبریز اور اصفہان دھماکوں سے گونج اٹھے

تہران/تل ابیب (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل کو جوابی حملے نہ کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کے واضح مشورے کے باوجود، اسرائیلی افواج نے سوموار کے روز ایران کے متعدد مقامات پر اچانک فضائی حملے کر دیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد تہران سمیت ایران کے تین بڑے شہر شدید دھماکوں سے گونج اٹھے ہیں۔

​اسرائیلی فوج (IDF) کا باقاعدہ اعلان اور دعویٰ

​اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلیگرام پر جاری کردہ اپنے ایک سرکاری بیان میں حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے:

​"کچھ دیر قبل اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی حکومت سے وابستہ اہم عسکری اہداف اور تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔"


​اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایک مختصر لیکن سخت ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حالیہ حملہ کر کے ایک ’سنگین غلطی‘ کی تھی، اور اس کا خمیازہ اب اسے بھگتنا پڑے گا۔ تاہم، اسرائیلی حکام کی جانب سے ابھی تک ان حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی درست تفصیلات اور مقامات کا کھل کر اعلان نہیں کیا گیا۔

​ایران کے تین بڑے شہروں میں دھماکے اور فلائٹس معطل

​اسرائیلی دعوے کے فوراً بعد ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی ملک کے وسطی اور مغربی حصوں میں دھماکوں کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق:

  • تہران (دارالحکومت)
  • تبریز
  • اصفہان

​ان تینوں بڑے شہروں اور ان کے گردونواح میں متعدد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ حملوں کے فوراً بعد ملک کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

​امام خمینی ہوائی اڈے پر آپریشنز بند

​صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے ملک بھر میں فضائی آپریشنز جزوی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ:

​"تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام ملکی اور غیر ملکی پروازیں پیر کی صبح سے اگلی اطلاع تک مکمل طور پر معطل رہیں گی۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ کرنے سے گریز کریں اور مزید معلومات کے لیے سرکاری ذرائع سے رابطے میں رہیں۔"


​عراق کی فضائی حدود بھی 72 گھنٹوں کے لیے بند

​ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑنے کے خطرے کے پیشِ نظر پڑوسی ملک عراق نے بھی بڑا قدم اٹھایا ہے۔ عراقی حکومت نے اپنی فضائی حدود کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے اگلے 72 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی امکانی فضائی حادثے یا میزائل کی زد میں آنے سے بچا جا سکے۔

​مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ: تجزیہ کاروں کی رائے

​بین الاقوامی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے منع کرنے کے باوجود اسرائیل کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ خطہ اب ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ اصفہان اور مغربی ایران میں ایران کے اہم ترین عسکری اور جوہری مراکز بھی موجود ہیں، اگر ان کو نقصان پہنچا ہے تو ایران کی طرف سے انتہائی شدید ردعمل آنے کی توقع ہے۔