عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں دھڑام سے گر گئیں، ایران امریکہ ممکنہ معاہدے کے مثبت اثرات
عالمی منڈی سے بڑی خوشخبری پیٹرول کی قیمتیں چند گھنٹوں میں نیچے آگئیں
بین الاقوامی ڈیسک (حقیقت پرائم): مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی محاذ پر بڑی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک اور ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بعد اب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف اور برینٹ کروڈ کی نئی قیمتیں
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے بجائے سیاسی و امن معاہدے پر اصرار کے بعد مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
صرف چند گھنٹوں کے دوران:
برینٹ کروڈ (Brent Crude): تقریباً 3 فیصد سے زائد کمی کے بعد 93.5 ڈالر فی بیرل تک نیچے آگیا۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): تقریباً 4 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
سرمایہ کاری فرم 'آگین کیپیٹل' کے پارٹنر جان کلڈف کا کہنا ہے کہ اس وقت سرمایہ کار اور عالمی مارکیٹ کسی بھی فوجی تصادم کے بجائے سیاسی حل کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات پسِ منظر میں چلے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور عالمی تجارت
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس بڑی کمی کی سب سے اہم وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات کا کم ہونا ہے۔ یہ دنیا کی وہ اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے یہ ڈر تھا کہ یہ راستہ بند ہو سکتا ہے، جس سے قیمتیں آسمان کو چھو سکتی تھیں، تاہم اب یہ خدشہ دور ہو گیا ہے اور جہاز رانی معمول کے مطابق جاری ہے۔
نوٹ: ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی نازک ہے، اگر دوبارہ کوئی فوجی یا سیاسی تبدیلی آتی ہے تو قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال پاکستان سمیت دنیا بھر کے صارفین کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
