2026/06/05

جب دھماکے ہوئے تو میں خامنہ ای کے دفتر میں تھا" ایرانی وزیرِ خارجہ کا تہلکہ خیز انکشافات


​"ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر پر مبنی  تھمب نیل، جس کے پس منظر میں تہران میں دھماکے کی تمثیلی تصویر ہے اور اردو میں 'جب دھماکے ہوئے تو میں خامنہ ای کے دفتر میں تھا - ایرانی وزیر خارجہ کا تہلکہ خیز انکشاف' لکھا ہوا ہے۔"




تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری کو تہران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے وقت وہ خود سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے۔

​حزب اللہ سے وابستہ معتبر عرب نشریاتی ادارے المیادین کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا کہ وہ فروری میں جنیوا مذاکرات سے واپسی کے فوراً بعد، 28 فروری کی صبح 9 بجے آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر پہنچے تھے تاکہ انہیں علاقائی صورتحال اور مذاکرات پر بریفنگ دے سکیں۔
​حملے کے وقت کی صورتحال
​عباس عراقچی کے مطابق، جنیوا مذاکرات کے بعد خطے میں جنگ کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکے تھے۔ انہوں نے بتایا:
​"جب امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا، تو میں سپریم لیڈر کے دفتر کے اسی کمپلیکس میں موجود تھا۔ خوش قسمتی سے عمارت کا وہ حصہ جہاں میں بیٹھ کر بریفنگ دے رہا تھا، براہِ راست حملے کی زد میں آنے سے محفوظ رہا۔"

​ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حملے کے وقت انہیں اپنی جان سے زیادہ سپریم لیڈر کی سلامتی کی فکر لاحق تھی۔ وہ حملے کے پہلے اور دوسرے روز شدید بے چینی اور صدمے کی حالت میں رہے، یہاں تک کہ سپریم لیڈر کی شہادت کی باضابطہ تصدیق ہو گئی۔
​سپریم لیڈر کا پناہ گاہوں میں جانے سے انکار
​عباس عراقچی نے بتایا کہ ان دنوں جنگ کے بادل گہرے تھے اور خطرات سر پر منڈلا رہے تھے، لیکن اس کے باوجود سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کسی بھی پناہ گاہ (Bunker) میں منتقل ہونے کو پسند نہیں کیا اور اپنے دفتر ہی میں موجود رہے۔ انہوں نے اس واقعے کو ایرانی تاریخ کا ایک انتہائی کرب ناک اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔
​ایران کا ادارہ جاتی ڈھانچہ اور 'خامنہ ای جونیئر' کا انتخاب
​وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بعض دشمن حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی ریاست کا نظام مفلوج ہو جائے گا یا ملک کمزور پڑ جائے گا، تاہم ایسا سوچنے والوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ایران کے تمام ادارے بحران کے باوجود اپنے امور تندہی سے انجام دیتے رہے۔

​انہوں نے واضح کیا کہ ’خامنہ ای جونیئر‘ کے بطورِ نئے سپریم لیڈر کے فوری اور پرامن انتخاب نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ایران کا سیاسی نظام کسی ایک فردِ واحد پر منحصر نہیں، بلکہ ایک انتہائی مضبوط اور مستحکم ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے جسے بیرونی حملوں سے ڈی ریل نہیں کیا جا سکتا۔