جنگ کا معاشی رخ: کس شعبے نے کتنے ارب ڈالرز سمیٹے؟
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد بھڑکنے والی جنگ نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، دنیا کے چند بڑے کاروباری شعبوں کے لیے یہ بحران اربوں ڈالرز کے منافع کا سبب بن گیا۔ الجزیرہ کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، اس جنگ سے سب سے زیادہ مالی فائدہ اٹھانے والوں میں دفاعی کمپنیاں، توانائی کے ادارے، انشورنس کمپنیاں اور عالمی سرمایہ کاری بینک شامل ہیں۔
آئیے اس جنگ کے اثرات اور دنیا بھر سے آنے والی اہم ترین خبروں پر تفصیلی نظر ڈالتے ہیں:
1. جنگ کے سب سے بڑے مالی فائدہ اٹھانے والے کون؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے دوران دنیا بھر میں افراتفری کے باوجود چند مخصوص شعبوں نے قلیل مدت میں غیر معمولی منافع کمایا:
توانائی کی کمپنیاں (Oil & Gas): جنگ کے دوران خام تیل کی قیمت 126 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچی۔ اس ریکارڈ اضافے سے سعودی آرامکو، برٹش پیٹرولیم (BP)، شیل اور ٹوٹل انرجیز جیسی بڑی کمپنیوں کے منافع میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔
دفاعی اور اسلحہ ساز کمپنیاں: اسلحے کی طلب بڑھنے سے بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس اور نارتھروپ گرومن جیسی کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کے نئے آرڈرز ملے۔ یہی نہیں، بلکہ امریکہ میں دفاعی بجٹ میں مزید 200 بلین ڈالرز کے اضافے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
شپنگ اور انشورنس کا کاروبار: آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی کے باعث بحری مال برداری کے کرائے اور جنگی انشورنس (War Insurance) کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی، جس کا سارا فائدہ شپنگ اور انشورنس کمپنیوں کو ہوا۔
سرمایہ کاری بینکس: عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی امریکی انویسٹمنٹ بینکوں نے 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 48 بلین ڈالرز کا منافع سمیٹا۔
مشکوک ٹریڈنگ کی تحقیقات: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پریڈکشن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز پر جنگ سے متعلق مشکوک شرطوں کے ذریعے بعض سرمایہ کاروں نے لاکھوں ڈالرز کمائے، جس پر 'اندرونی معلومات' (Insider Information) کے استعمال کے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
2. پاک-امریکہ-ایران تناؤ اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں
جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
امریکی فضائی حملے: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے یہ کارروائی ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کی اور "ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ ہم مزید تحمل کا مظاہرہ نہ کر سکیں"۔
ایران کا سخت ردعمل: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جزیرے 'سِرک' پر امریکی فضائی حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب، ایرانی رہنما ابراہیم عزیزی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا کہ وہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند نہیں، اور یہ غیر ذمہ دارانہ اقدام امریکہ کے لیے پشیمانی کا باعث بنے گا"۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: بحری سیکیورٹی کے ادارے یو کے ایم ٹی او (UKMTO) کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ بحرین نے بھی ایرانی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
3. مشرقِ وسطیٰ کے دیگر اہم حالات: لبنان اور غزہ
ایران کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذوں پر بھی اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے:
لبنان معاہدہ اور اسرائیل کا مؤقف: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کو ایک "تاریخی کامیابی" قرار دے کر خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم، حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ لبنانی خودمختاری سے دستبردار ہونے اور اسرائیلی وجود کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف، لبنانی صدر جوزف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج نکالی جائے اور امریکہ معاہدے کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں مدد کرے۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت: وسطی غزہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 3 فلسطینی پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ غزہ کی وزارتِ داخلہ نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے کا مقصد خطے میں بدامنی پھیلانا ہے۔
فضائی روابط کی بحالی: کشیدگی کے بیچ ایک مثبت خبر یہ ہے کہ اماراتی اور ایرانی سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے ضروری اجازت نامے جاری ہونے کے بعد، تہران اور دبئی کے درمیان مسافر پروازیں یکم جولائی سے دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔
4. بین الاقوامی خبریں: بھارت اور جاپان
عالمی منظرنامے سے کچھ اور اہم خبریں بھی سرخیوں میں رہیں:
بھارت میں مساجد پر کارروائی اور ہولناک جرم: بھارت کی مختلف ریاستوں (دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ) میں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے نام پر گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران 23 مساجد، مدارس اور درگاہوں کو مسمار کر دیا گیا۔ ایک اور افسوسناک واقعے میں، قرض نہ ملنے پر ایک ملزم نے انٹرنیٹ سے قتل کرنے اور پولیس سے بچنے کے طریقے سیکھ کر ایک ہی خاندان کے 4 افراد کو قتل کر دیا۔
جاپان میں قوانین اور موسم کی صورتحال: جاپان نے بزنس منیجر ویزے کے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ صرف سنجیدہ اور بہتر سرمایہ رکھنے والے کاروباری افراد ہی ملک کا رخ کر سکیں۔ ادھر جاپان میں طوفان 'میکھالا' اور 'ہیگوس' کے باعث ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر الرٹ جاری کیا گیا ہے۔






