2026/06/30

خصوصی رپورٹ: کوئٹہ سانحہ میں جاں بحق علی مرتضیٰ کی کہانی؛ حکومتی اقدامات اور سوگوار خاندان کا مؤقف

 

A news thumbnail image featuring a family outdoor photo on the left near a lake, and a distressed young child on the right. Urdu text overlays highlight a special report on the Quetta tragedy and family demands for justice.

​کراچی/کوئٹہ (خصوصی نمائندہ، ایچ پی نیوز):

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک انتہائی لرزہ خیز اور المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ کی زخمی اہلیہ کا کراچی کے آغا خان ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ ایچ پی نیوز کی تحقیقات اور مقتول کے اہلخانہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، واقعے کی سنگینی، زخمیوں کی منتقلی اور بعد ازاں پیدا ہونے والی صورتحال پر حکومتی ذرائع اور مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔

​پیش ہے اس ہولناک واقعے پر ایچ پی نیوز ڈیجیٹل کی یہ تفصیلی رپورٹ:

​۱۔ زخمی خاتون کا علاج اور منتقلی: حکومتی دعوے بمقابلہ خاندانی ذرائع

​وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر اور سرکاری ترجمان بابر یوسفزئی کے مطابق، حکومتِ بلوچستان متاثرہ خاندان کی مکمل سرپرستی کر رہی ہے۔ سرکاری پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آغا خان ہسپتال کراچی میں زیر علاج خاتون کے تمام طبی اخراجات حکومتِ بلوچستان اپنے ذمہ لے چکی ہے اور سرکاری خزانے سے ان کا علاج جاری ہے۔

​وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان انتظامیہ کے ایک ڈپٹی کمشنر اور ضلع حب کے پولیس سربراہ ایس پی مرزا بلال حسین نے کراچی میں آغا خان ہسپتال کا دورہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی مرزا بلال حسین نے تصدیق کی کہ:

​"خاتون کو ہسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اب ان کی حالت پہلے سے کافی بہتر اور خطرے سے باہر ہے۔"


​دوسری جانب، علی مرتضیٰ کے قریبی خاندانی ذرائع نے نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ سانحے کے فوری بعد جب شدید ہنگامی صورتحال تھی، تو کسی بھی سرکاری مدد کے پہنچنے سے پہلے انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مقتول کی میت اور شدید زخمی خاتون کو کوئٹہ سے بائی ایئر کراچی منتقل کیا۔ اہلخانہ کے مطابق، ابتدائی اور نازک ترین مراحل میں تمام اخراجات اور انتظامات انہوں نے خود سنبھالے، تاہم بعد میں حکومتی وفود نے ہسپتال میں ان سے رابطہ کیا۔

​۲۔ سوشل میڈیا ویڈیوز: خوشی کا سفر آخری سفر بن گیا

​مقتول علی مرتضیٰ بنیادی طور پر موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ تھے اور اپنے کام کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے اپنے آفیشل ہینڈلز سے حاصل ہونے والی آخری ویڈیوز ڈیجیٹل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جو اس المناک کہانی کا سب سے دکھ بھرا پہلو ہیں۔

​نیوز چینل کی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق، ان ویڈیوز میں علی مرتضیٰ اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ کوئٹہ اور زیارت کے پرفضا مقامات پر چھٹیاں گزار رہے تھے۔ ریکارڈ پر موجود مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ:

  • ​پورا خاندان کوئٹہ کے مشہور تفریحی مقام ہنہ جھیل پر خوشگوار موڈ میں چہل قدمی کر رہا ہے۔
  • ​معصوم بچیاں ایک مقامی کڈز پلے ایریا میں جھولے جھول رہی ہیں اور علی مرتضیٰ ان کی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔
  • ​گاڑی میں سفر کے دوران اہلیہ اگلی نشست پر جبکہ دونوں بیٹیاں پچھلی نشست پر بیٹھی انتہائی مطمئن نظر آتی ہیں۔

​سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، جو اب اس کیس کا ایک بڑا حوالہ بن چکا ہے: "انہیں رتی برابر بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری ویڈیو ہوگی۔"

​۳۔ کابل جان ریسٹورنٹ اور ہاشم نورزئی کا قتل: سکیورٹی ذرائع کی رپورٹ

​علی مرتضیٰ کی بنائی گئی آخری فیملی ویڈیو میں کوئٹہ کے ایک انتہائی معروف اور روایتی ریسٹورنٹ ’’کابل جان‘‘ کے مناظر بھی شامل تھے، جہاں انہوں نے فیملی کے ہمراہ رات کا کھانا کھایا تھا۔

​کوئٹہ پولیس اور سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس کہانی میں ایک ہولناک موڑ اس وقت آیا جب علی مرتضیٰ کے قتل کے محض چند گھنٹوں بعد، اگلی صبح (سنیچر کو) کابل جان ریسٹورنٹ کے مالک ہاشم نورزئی کو بھی کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

​سکیورٹی ماہرین اور مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق، چند گھنٹوں کے وقفے سے ایک ہی ریسٹورنٹ سے جڑے دو افراد (ایک مہمان تاجر اور ایک مقامی ریسٹورنٹ مالک) کا قتل محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا لنک ہے، اس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

​۴۔ میزبان احسان خان کا بیان: "میت کی وصولی اور قیامت کا منظر"

​کوئٹہ میں علی مرتضیٰ اور ان کے خاندان کی میزبانی کرنے والے مقامی شہری احسان خان نے مقتول کے خاندان کی آمد اور لاش کی منتقلی کے حوالے سے انتہائی دلسوز تفصیلات میڈیا کے سامنے شیئر کی ہیں۔

​احسان خان نے روتے ہوئے بتایا کہ علی مرتضیٰ کے قتل کی لرزہ خیز خبر سننے کے بعد کراچی سے مقتول کی بوڑھی والدہ، بہن اور اہلیہ کا بھائی ہنگامی طور پر کوئٹہ پہنچے۔ احسان خان نے اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا:

​"یہ ہمارے لیے ایک ایسی قیامت تھی جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ جن مہمانوں کو ہم نے چند گھنٹے پہلے انتہائی خوشی اور ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے گھر سے رخصت کیا تھا، انہی کے اہلخانہ کا اس حال میں سامنا کرنا ہمارے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ جب مقتول کی بوڑھی ماں اور بہن نے لاش دیکھی، تو ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس کے اندر دھنس جائیں۔ ہم شرمندگی اور صدمے سے ان سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے۔"


​۵۔ تجارتی حلقوں اور عوامی ردعمل کا خلاصہ

​کراچی کی موبائل مارکیٹ ایسوسی ایشن اور کوئٹہ کی تاجر برادری نے اس دہرے قتل (علی مرتضیٰ اور ہاشم نورزئی) پر گہرے دکھ اور شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے اندر سفر کرنے والے تاجر اور سیاح بھی محفوظ نہیں ہیں، تو کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے آئی جی بلوچستان اور اعلیٰ سکیورٹی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری طور پر ٹریس کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مظلوم خاندان کو انصاف مل سکے۔