اسلام آباد / تائیوان (نیوز ڈیسک)
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور بجلی کے بحران کے پیشِ نظر سائنسدانوں نے ایک ایسی حیرت انگیز کامیابی حاصل کر لی ہے جو آنے والے وقت میں بجلی کے حصول کا طریقہ یکسر بدل سکتی ہے۔ تائیوان کی نیشنل یینگ منگ چیاؤ ٹنگ یونیورسٹی (NYCU) کے محققین نے ایک ایسا جدید ترین سولر پینل تیار کر لیا ہے جو نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ گھروں اور دفاتر میں جلنے والے عام بلبوں اور ایل ای ڈی (LED) کی مصنوعی روشنی سے بھی مؤثر انداز میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں ہونے والی اس اہم ترین سائنسی پیش رفت کو مستقبل میں اسمارٹ ڈیوائسز اور ہوم اپلائنسز کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
روایتی سلیکون پینلز سے زیادہ مؤثر 'پیرووسکائٹ' ٹیکنالوجی
ماہرین کے مطابق یہ جدید پینلز روایتی سلیکون سولر پینلز کے بجائے "پیرووسکائٹ" (Perovskite) نامی ایک جدید مادے سے تیار کیے گئے ہیں۔ پیرووسکائٹ میں روشنی کو جذب کر کے اسے بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت روایتی پینلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اس سے قبل اس ٹیکنالوجی میں کچھ تکنیکی خامیاں موجود تھیں، جنہیں تائیوانی محققین نے ایک جدید کیمیائی طریقے (کیمیکل پاسیویشن) کے ذریعے دور کر دیا ہے۔ اس کامیاب تجربے کے بعد یہ مادہ انتہائی کم یا مصنوعی روشنی میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل ہو گیا ہے۔ مائیکرو اسکوپ کے نیچے اس مادے کی ساخت کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے:
عام دفاتر اور گھروں میں بجلی کی بچت
تحقیق کے مطابق جہاں روایتی سلیکون پینل کمرے کی روشنی میں ناکارہ ہو جاتے ہیں، وہیں یہ جدید پینل عام دفتری روشنی (تقریباً 2,000 lux) کے اندر 38 فیصد سے زائد کی صلاحیت (Efficiency) کے ساتھ روشنی کو بجلی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی تجارتی پیمانے پر مارکیٹ میں آ جاتی ہے، تو گھروں اور دفاتر کے اندر موجود ضائع ہونے والی روشنی بھی توانائی کے ایک نئے ذریعے میں بدل جائے گی، جس سے بجلی کے بلوں میں واضح کمی آئے گی۔
کن آلات کو فائدہ پہنچے گا؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پینل فی الحال ان آلات کے لیے بہترین ہیں جو کم بجلی پر چلتے ہیں۔ مستقبل قریب میں اس کی مدد سے درج ذیل آلات کو بغیر کسی بیرونی بیٹری یا روایتی بجلی کے چلایا جا سکے گا:
ٹی وی اور دیگر آلات کے ریموٹ کنٹرول
اسمارٹ ہوم سینسرز اور سیکیورٹی ڈیوائسز
پہننے والی الیکٹرانک ڈیوائسز (جیسے اسمارٹ واچز اور فٹنس بینڈز)
انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ڈیوائسز
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اہمیت
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک اس وقت شدید بجلی کے بحران اور مہنگی بجلی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں سولر پینلز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول دوست اور جدید پینلز کی آمد سے نہ صرف گرین انرجی (ماحول دوست توانائی) کو فروغ ملے گا بلکہ انڈور ڈیوائسز کو چارج کرنے کی پریشانی بھی مستقل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کے بعد دنیا بھر میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی۔






