پینٹاگون کا اعتراف: ایران کے ساتھ جنگ پر 29 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر آنے والے اخراجات کی نئی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس نے امریکی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اس جنگ پر اب تک مجموعی طور پر 29 ارب ڈالر کی بھاری رقم خرچ ہو چکی ہے۔
بجٹ بریفنگ کی تفصیلات
منگل کے روز امریکی کانگریس میں بجٹ کے حوالے سے ہونے والی ایک اہم بریفنگ کے دوران پینٹاگون کے فائننس چیف جیولز ہرسٹ نے انکشاف کیا کہ جنگی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ سٹاف اور آڈٹ ٹیمیں مسلسل ان اخراجات کی نگرانی کر رہی ہیں اور تازہ ترین تخمینے 29 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
اخراجات میں اچانک اضافہ:
رپورٹ کے مطابق، صرف دو ہفتے قبل 29 اپریل کو امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ان اخراجات کا حجم 25 ارب ڈالر ہے۔ تاہم، محض 14 دنوں کے اندر اس میں مزید 4 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو جنگ کی شدت اور فوجی نقل و حرکت کی لاگت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے:
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اخراجات نہ صرف ہتھیاروں اور ایندھن کی مد میں ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ (U.S. Navy) کی تعیناتی اور فضائی کارروائیوں پر بھی بڑی رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ کانگریس میں ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد بائیڈن انتظامیہ پر بجٹ کے حوالے سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔






