2026/05/11

ایرانی قیادت بے ایمان اور غیر معقول ہے، جنگ بندی اب ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ









امریکہ ایران کشیدگی میں نیا موڑ: ٹرمپ اور خامنہ ای کے درمیان لفظی جنگ تیز!


تہران کا جواب کچرا ہے، اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا" - امریکی صدر کا وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے جارحانہ خطاب

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں "بے ایمان" قرار دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت بار بار اپنا ذہن بدلتی ہے اور ان کا رویہ انتہائی غیر معقول ہے۔

ایرانی قیادت میں پھوٹ کا دعویٰ

​صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مرکزی قیادت، جو کہ انتہائی غیر معقول تھی، اب جا چکی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:

​"دوسری سطح کی قیادت قدرے بہتر ہے، لیکن تیسری سطح میں سے کوئی بھی صدر بننے کو تیار نہیں ہے۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ کون ذمہ داری سنبھالے گا، تو کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔"


جنگ بندی اور تہران کا جواب

​ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے سوال پر صدر ٹرمپ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ معاہدہ اس وقت "لائف سپورٹ" پر ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو "کچرا" قرار دیتے ہوئے کہا:

  • ​"میں نے ان کا جواب پورا پڑھا بھی نہیں کیونکہ میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔"
  • ​"جنگ بندی اس وقت اتنی کمزور ہے جیسے کوئی مریض آخری سانسیں لے رہا ہو اور ڈاکٹر کہے کہ بچنے کا صرف ایک فیصد امکان ہے۔"

عسکری صورتحال اور جوہری ہتھیار

​صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی طاقت کے حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران عسکری اعتبار سے بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جو تھوڑی بہت فوجی قوت بچی ہے، وہ شاید جنگ بندی کے وقفے کا نتیجہ ہے، لیکن "ہم اسے ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔"

​انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

​"اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو نہ اسرائیل محفوظ رہے گا اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ۔ اس کے بعد ان کا اگلا نشانہ یورپ ہو سکتا ہے۔ ہم ایران کو کسی صورت ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔"


"مکمل فتح ہمارا ہدف ہے"

​اپنے خطاب کے آخر میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی یہ نہ سوچیں کہ میں تھک جاؤں گا یا بور ہو جاؤں گا۔ "مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، ہم ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کرنے جا رہے ہیں۔"

تجزیہ: صدر ٹرمپ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر مزید سخت معاشی یا عسکری دباؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔